ویمنز ورلڈ کپ: پاکستان ٹیم کی سری لنکا میں پریکٹس، بھرپور تیاریاں
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم نے بدھ کو سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ویمنز ورلڈ کپ کے لیے باقاعدہ تربیتی سیشن کا آغاز کر دیا، قومی ٹیم گزشتہ رول کولمبو پہنچی جہاں وہ اپنے تمام میچز سری لنکا کے میدانوں میں کھیلے گی۔
آئی سی سی کے طے کردہ ہائبرڈ ماڈل کے تحت سیاسی کشیدگی کی وجہ سے پاکستان کی ٹیم بھارت نہیں جائے گی بلکہ کولمبو میں اپنے تمام میچز کھیلے گی۔ ورلڈ کپ کا آغاز 30 ستمبر کو بھارت کے شہر گوہاٹی میں ہوگا جبکہ ٹورنامنٹ 2 نومبر تک جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’جیسے کو تیسا‘ پاکستان کے ویمنز ورلڈ کپ میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل
رانی سنگھے پریماداسا اسٹیڈیم میں ہونے والے پہلے تربیتی سیشن میں بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ہیڈ کوچ محمد وسیم کی نگرانی میں کھلاڑیوں نے بھرپور محنت کی۔ ورلڈ کپ کے آغاز سے پہلے پاکستان دو اہم وارم اپ میچز کھیلے گا، پہلا میچ 25 ستمبر کو سری لنکا اور دوسرا 28 ستمبر کو جنوبی افریقہ کے خلاف ہوگا۔
قومی ویمن ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے روانگی سے قبل لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے خلاف میچ کو کسی اضافی دباؤ کے ساتھ نہیں کھیلیں گے۔ ان کے مطابق ورلڈ کپ کا ہر میچ اہم ہے اور ٹیم سبھی مقابلوں کو یکساں سنجیدگی سے لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری کوشش ہوگی کہ بنگلہ دیش کے خلاف اچھا آغاز کریں اور پھر اسی رفتار سے ایونٹ میں آگے بڑھیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کا 15 رکنی اسکواڈ اعلان
فاطمہ نے مزید کہا کہ حالیہ جنوبی افریقہ سیریز میں 300 سے زائد رنز کے ہدف کا تعاقب کرنے کی کوشش ظاہر کرتی ہے کہ ٹیم درست سمت میں جا رہی ہے۔ اگرچہ پاکستان نے یہ میچ 25 رنز سے ہارا، لیکن تیسرے ون ڈے میں کامیابی نے کھلاڑیوں کو اعتماد دیا ہے۔
پاکستانی کرکٹر سدرہ امین نے جنوبی افریقہ کے خلاف شاندار سینچری سکور کی، اس موقعہ اس نے ٹرول کرتے ہو بھارت کو 0-6 سکور یاد کروا دیا
پاکستانی کسی کا قرض نہیں رکھتے
یہ تو باجوہ فیض نثار پارلیمنٹ میں کھوتا نہ باندھتے تو مالی قرض بھی آج ختم ہوتا☝️ pic.
— ???????????? ℂ???????????????????????????????? (@AliCh7777) September 20, 2025
پاکستان کا ورلڈ کپ شیڈول کچھ اس طرح ہے کہ 2 اکتوبر کو پہلا میچ بنگلہ دیش کے خلاف ہوگا۔ 5 اکتوبر کو پاکستان اور بھارت آمنے سامنے آئیں گے۔ 8 اکتوبر کو آسٹریلیا سے مقابلہ ہوگا۔ 15 اکتوبر کو انگلینڈ، 18 اکتوبر کو نیوزی لینڈ، 21 اکتوبر کو جنوبی افریقہ اور 24 اکتوبر کو آخری گروپ میچ سری لنکا کے خلاف کھیلا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بھارت پاکستان سری لنکا شیڈول کرکٹ ورلڈ کپ ویمنز ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان سری لنکا شیڈول کرکٹ ورلڈ کپ ویمنز ٹیم جنوبی افریقہ اکتوبر کو سری لنکا کے خلاف ورلڈ کپ
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔