جیکب آباد، شہید سید حسن نصراللہ کی برسی پر ریلی کے مناظر
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
ایم ڈبلیو ایم ضلع جیکب آباد کے زیر اہتمام سید مقاومت کی پہلی برسی کے موقع پر شہید اللہ بخش پارک سے پریس کلب تک ریلی نکالی گئی۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
جیکب آباد، شہید سید حسن نصراللہ کی پہلی برسی پر ریلی برآمد
جیکب آباد، شہید سید حسن نصراللہ کی پہلی برسی پر ریلی برآمد
جیکب آباد، شہید سید حسن نصراللہ کی پہلی برسی پر ریلی برآمد
جیکب آباد، شہید سید حسن نصراللہ کی پہلی برسی پر ریلی برآمد
جیکب آباد، شہید سید حسن نصراللہ کی پہلی برسی پر ریلی برآمد
جیکب آباد، شہید سید حسن نصراللہ کی پہلی برسی پر ریلی برآمد
جیکب آباد، شہید سید حسن نصراللہ کی پہلی برسی پر ریلی برآمد
جیکب آباد، شہید سید حسن نصراللہ کی پہلی برسی پر ریلی برآمد
جیکب آباد، شہید سید حسن نصراللہ کی پہلی برسی پر ریلی برآمد
اسلام ٹائمز۔ شہید سید حسن نصراللہ کی پہلی برسی کی مناسبت پر جیکب آباد میں ریلی برآمد ہوئی۔ مظاہرین نے اس موقع پر فلسطینی عوام اور حزب اللہ کی حمایت کا اظہار کیا۔ ایم ڈبلیو ایم ضلع جیکب آباد کے زیر اہتمام سید مقاومت کی پہلی برسی کے موقع پر شہید اللہ بخش پارک سے پریس کلب تک ریلی نکالی گئی۔ جس کی قیادت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی، ضلعی صدر نذیر حسین جعفری، ضلع صدر مجلس علماء مکتب اہل بیت علامہ سیف علی ڈومکی، ڈویژن صدر یوتھ ونگ اللہ بخش میرالی اور استاد خادم حسین نے کیں۔ ریلی میں تنظیمی کارکنوں اور مختلف مکاتب فکر کے افراد نے میں شرکت کی۔اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید امت سید حسن نصراللہ کا پیغام لبنان کی سرحدوں سے نکل کر دنیا بھر کے مظلوموں اور حق پرستوں کے لئے مشعل راہ بن چکا ہے۔ شہید سید آج بھی زندہ ہیں اور ان کا مشن دنیا کے کروڑوں غیرت مند، باشعور اور حق پرست انسانوں کی صورت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ سید حسن آج ایک عالمی رہبر اور عالمگیر شخصیت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ اقوام عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کی عملی حمایت کریں اور بحر سے نہر تک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اقدامات کریں۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں جاری قتل عام اور مصنوعی قحط کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جیکب آباد
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔