سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے چین کی جانب سے سامان کے 2 جہاز پاکستان پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے چین کی جانب سے امدادی سامان کے 2 جہاز پاکستان پہنچ گئے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دو پروازوں کے ذریعے 300 خیمے اور 9 ہزار کمبل چین سے نور خان ایئر بیس پہنچا دیے گئے۔
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام اور چیئرمین این ڈی ایم اے نے امدادی سامان وصول کیا اور چینی جہاز عملے کو خوش آمدید کہا، تقریب میں پاکستان میں چینی سفیر نے بھی شرکت کی۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ چین کی بروقت امداد پاک چین لازوال دوستی کی عکاس ہے، وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق حکومتی ادارے اور این ڈی ایم اے متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں، چین نے کبھی بھی مشکل وقت میں پاکستان کو اکیلا نہیں چھوڑا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔