اشرافیہ دو فیصد، مگر وہ پاکستان کی 70 فیصد دولت کھا جاتی ہے، اعتزاز احسن
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
لاہور:۔ لاہور ہائیکورٹ بار میں بیرسٹر اعتزاز احسن کی 80 ویں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔ چوہدری اعتزاز احسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں جسٹس سرفراز ڈوگر جیسے جج نہیں چاہئیں، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو وکلا سے بدتمیزی کی اجازت نہیںدیں گے، ہمیں وکلاءکو مضبوط ہونا ہوگا، سپریم کورٹ میں پہلے ہی زیادہ تعداد میں جج ہیں، یہ سپریم کورٹ میں 34 جج کرنا چاہتے ہیں جو قبول نہیںہے، ہم اب اس ملک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی بحالی کے لیے جہدوجہد کریں گے۔
اعتزاز احسن نے کہاکہ بانی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے، بانی پاکستان تحریک انصاف کو فوری رہا کیا جائے، میری جماعت کو بھی سمجھنا چاہئے، ان نور والوں سے کسی کو کوئی شرف حاصل نہیں ہوگا، ظرف یہ ہے کسی میں کوئی برائی نظر آے تو نظرانداز کر دیا جائے، تمام سیاسی جماعتوں کو مل جل کر چلنا ہوگا، سیاسی جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں چلنا چاہئے۔
انہوں نے کہاکہ ہماری اشرافیہ دو فیصد ہے مگر وہ پاکستان کی 70 فیصد دولت کھا جاتی ہے، ہمارا سفر ابھی ختم نہیں ہوا، ہمیں نوجوان وکلا کو عدل کا درس دینا ہوگا، ہم بااصول پانچ ججوں کا ساتھ دیں گے، وکلا تحریک میں ہم ججوں کو کہتے تھے شارٹ کٹ نہ لیں، ہم بحال کروائیں گے، ہمیں تشدد کی سیاست سے بچنا ہوگا، ہمیں اب دوبارہ جذبہ بنانا پڑے گا، اب یہ نہیں ہوسکتا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو اسٹیبلشمنٹ باہر اٹھا پھینکے۔
لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ملک آصف نسوانہ نے کہا کہ بیرسٹر اعتزاز احسن ہماری بار کا مان ہیں، چوہدری اعتزاز احسن نے ہمیشہ جمہوری اصولوں کی پاسداری کی، ملک کے اہم عہدوں پر فائز رہ کر آئین کی بالادستی کیلئے کام کیا، عدلیہ کی بحالی کیلئے اعتزاز احسن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، پوری لاہور ہائیکورٹ بار اعتزاز احسن کو ان کی سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔