حماس نے ثالثوں کو جواب میں کہا کہ غزہ سے متعلق منصوبے کا جائزہ لیکر جواب دینگے، انہوں نے کہا کہ غزہ پر غیر ملکی ادارے کی حکمرانی قبول نہیں، تجویز کا مثبت طرزعمل میں جائزہ لیکر جوابی حکمت عملی سے آگاہ کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ قطر اور مصر نے حماس کے ساتھ مجوزہ امن منصوبہ شیئر کر دیا۔ حماس نے ثالثوں کو جواب میں کہا کہ غزہ سے متعلق منصوبے کا جائزہ لے کر جواب دیں گے، انہوں نے کہا کہ غزہ پر غیر ملکی ادارے کی حکمرانی قبول نہیں، تجویز کا مثبت طرزعمل میں جائزہ لے کر جوابی حکمت عملی سے آگاہ کریں گے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس میں غزہ جنگ بندی منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لئے تاریخی دن ہے، خطے میں امن اور استحکام کے لیے کام کریں گے، غزہ امن معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ عرب اور مسلم رہنماؤں نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے بھی امن معاہدے کی حمایت کی ہے۔ ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے میرا امن معاہدہ تسلیم کرلیا ہے، ایران سے متعلق بھی نیتن یاہو کے ساتھ معاہدہ کیا گیا، امن معاہدہ تسلیم کرنے پر اسرائیلی وزیراعظم کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے امن کے عمل میں نیتن یاہو کے کردار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مل کر اچھا کام کیا ہے اور کئی دیگر ممالک کے ساتھ بھی اور یہی اس صورتحال کو حل کرنے کا طریقہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہا کہ غزہ کر جواب

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم