لکی مروت : پولیس ، امن کمیٹی کا مشترکہ آپر یشن ‘ ایک خارجی ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
پشاور(آئی این پی ) خیبرپی کے کے ضلع لکی مروت میںپولیس اور امن کمیٹی کے مشترکہ آپریشن میں فتنہ الخوارج کا ایک دہشتگرد ہلاک اور دو فرار ہوگئے جبکہ شمالی وزیرستان میں میرانشاہ سے دتہ خیل تک کرفیو نافذ رہا ۔تفصیل کے مطابق لکی مروت کے علاقے وانڈہ امیر میں پولیس اور مقامی امن کمیٹی کے تعاون سے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کیخلاف کامیاب مشترکہ آپریشن کیا گیا۔آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشتگرد ہلاک ہو گیا جبکہ اس کے دو ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تاہم ہلاک دہشتگرد کی شناخت تاحال جاری ہے۔ڈی پی او لکی مروتنذیر خان نے بتایا کہ آپریشن کی نگرانی ڈی ایس پی سرکل لکی مروت نے کی‘ جبکہ تھانہ صدر پولیس کی نفری، ایلیٹ فورس اور بکتر بند گاڑیاں بھی شریک ہوئیں۔آر پی او بنوں ڈویژن سجاد خان اور ڈی پی او لکی مروت نزیر خان نے کامیاب کارروائی پر پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ڈی پی او نے مزید کہا کہ علاقائی امن کمیٹی چغہ پارٹی نے بھی بہادری سے کردار ادا کیا‘ پولیس اور عوام متحد ہو کر ملک دشمن عناصر کا خاتمہ یقینی بنائیں گے۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد عناصر ایسے بزدلانہ اقدامات سے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔دوسری جانب شمالی وزیرستان میں میرانشاہ سے دتہ خیل تک پیرکو کرفیو نافذ رہا ۔بنوں-میرانشاہ مین روڈ کی ٹریفک کیلئے کھلی رہی۔ڈپٹی کمشنر محمد یوسف کریم کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ کرفیو صبح 5 بجے سے دوپہر 3 بجے تک نافذ رہے گا تاہم بنوں-میرانشاہ مین روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لئے کھلا رہے گا۔انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی تھی کہ کرفیو کے اوقات میں نقل و حرکت سے گریز کریں اور حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔