مصری ریسلر نے صرف دانتوں سے سمندری جہاز کھینچ کر سب کو دنگ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا بھر میں طاقت کے مظاہرے ہمیشہ سے انسانوں کی دلچسپی کا مرکز رہے ہیں، لیکن بعض کارنامے ایسے ہوتے ہیں جو دیکھنے والوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔
مصر کے ایک مشہور ریسلر نے ایسا ہی ناقابلِ یقین کمال دکھایا ، جس میں اس نے صرف اپنے دانتوں کی مدد سے ایک بڑی سمندری کشتی کھینچ ڈالی۔ یہ کارنامہ ایک عوامی شو میں پیش آیا جہاں ہزاروں افراد کی موجودگی میں اس غیرمعمولی طاقت کے حامل پہلوان نے اپنی انوکھی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا۔
حاضرین لمحہ بہ لمحہ اس شاندار لمحے کو دیکھتے رہے اور جب کشتی حرکت میں آئی تو پورا مجمع حیرت اور تالیاں بجاتے شور میں ڈوب گیا۔
ماہرین کے مطابق دانتوں کے ذریعے اتنی بھاری چیز کھینچنا بظاہر ناممکن لگتا ہے کیونکہ عام انسان کے دانت اس دباؤ کو برداشت ہی نہیں کرسکتے اور فوراً ٹوٹ جاتے ہیں، تاہم اس ریسلر نے برسوں کی سخت تربیت، غیر معمولی فٹنس اور جبڑوں کی مشق کے ذریعے ایسی طاقت پیدا کی ہے جس نے ماہرین کو بھی ششدر کردیا ہے۔
ریسلر نے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف جسمانی لحاظ سے مضبوط ہے بلکہ اس کی دانتوں اور جبڑوں کی طاقت دنیا بھر کے کھلاڑیوں سے الگ اور منفرد ہے۔
یہ مظاہرہ اُن غیرمعمولی کارناموں کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے جو اکثر ورلڈ ریکارڈ بک کا حصہ بنتے ہیں۔ ماضی میں بھی ایسے مناظر دیکھنے کو ملے ہیں جب طاقتور افراد نے بھاری بھرکم ٹرک یا جہاز کو کھینچا، لیکن یہ پہلوان ان سب میں انوکھا ثابت ہوا کیونکہ اس نے محض دانتوں کا سہارا لے کر یہ کارنامہ انجام دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شو میں شریک متعدد افراد نے واقعے کو کیمروں میں محفوظ کیا جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہا ہے اور دنیا بھر سے لوگ اپنی حیرت اور تعریف کے تبصرے کر رہے ہیں۔
یہ مظاہرہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسانی جسم کس حد تک صلاحیتیں رکھتا ہے اگر اسے محنت، نظم و ضبط اور لگن کے ساتھ آزمایا جائے۔
مصری ریسلر کی یہ کامیابی نہ صرف ایک دلچسپ تماشا تھی بلکہ جسمانی صلاحیتوں اور غیر معمولی عزم کی عملی مثال بھی بنی۔ ایسے واقعات یہ یاد دلاتے ہیں کہ دنیا میں اب بھی بہت کچھ ممکن ہے جو عام انسانی سوچ سے کہیں آگے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔