جیل میں ہونے کے باوجود ایکس اکاؤنٹ کیسے فعال ہے؟ عمران خان کو سوالنامہ دے دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
جیل میں ہونے کے باوجود ایکس اکاؤنٹ کیسے فعال ہے؟ عمران خان کو سوالنامہ دے دیا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 1 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے ’ایکس‘ ہینڈل کے استعمال سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے عمران خان سے ایک بار پھر تفتیش کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
این سی سی آئی اے نے 21 نکاتی سوال نامہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے کر دیا، ان سے تفتیش سوال نامے کے تحریری جواب کی روشنی میں کی جائے گی۔
این سی سی آئی اے نے سوال کیا ہے کہ جیل میں ہونے کے باوجود آپ کا ایکس اکاؤنٹ فعال کیسے ہے؟
ایک اور سوال میں استفسار کیا گیا ہے کہ آپ کا ایکس (ٹوئٹر) کہاں سے اور کون آپریٹ کرتا ہے؟ کیا ذاتی ایکس اکاؤنٹ سے ہونے والی پوسٹس تسلیم کرتے ہیں؟
ایک سوال میں پوچھا گیا ہے کہ کیا ملک مخالف ٹوئٹس آپ کی مرضی سے پوسٹ کی جاتی ہیں؟
این سی سی آئی اے کی تفتیشی ٹیم 2 مرتبہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرچکی ہے، تاہم بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جیل میں این سی سی آئی اے کی ٹیم سے تعاون نہیں کیا۔
دوسری ملاقات میں عمران خان نے تفتیشی ٹیم کے ساتھ تلخ کلامی بھی کی تھی، بانی پی ٹی آئی کے عدم تعاون کے وجہ سے تحریری سوال نامہ حوالے کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 14 مئی کو لاہور کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے عمران خان کا پولی گرافک ٹیسٹ کروانے کی اجازت دی تھی۔9 مئی کے مقدمات میں پولیس نے عمران خان کا پولی گرافک اور فوٹوگرافک ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے لیے پراسیکیوشن نے انسداد دہشت گردی عدالت میں باقاعدہ درخواست جمع کرائی تھی۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے 9 مئی واقعات کے حوالے سے سچائی جانچنے کے لیے پولی گرافک سمیت دیگر ضروری سائنسی ٹیسٹ کروائے جانا اہم ہے۔
تاہم، عدالت میں سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے درخواست کی سخت مخالفت کی تھی۔
ابتدائی دلائل میں ان کا کہنا تھا کہ 2 سال بعد ایسی درخواست دائر کرنا بدنیتی پر مبنی ہے۔
تفتیشی ٹیم 4 بار عمران خان کا پولی گرافک ٹیسٹ کرنے اڈیالہ جیل گئی، لیکن عمران خان نے ٹیسٹ کروانے سے انکار کر دیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسپریم کورٹ؛ آئینی بینچ نے سپر ٹیکس کیس میں اہم سوالات اٹھا دیے سپریم کورٹ؛ آئینی بینچ نے سپر ٹیکس کیس میں اہم سوالات اٹھا دیے اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا کشتیوں کو سمندر میں ڈبونے کا منصوبہ بے نقاب وفاقی حکومت کا ناراض پیپلز پارٹی کو منانے کا فیصلہ آزاد کشمیر میں ہڑتال کا تیسرا روز، ایکشن کمیٹی کی کال پر مظاہرین کا مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ فلپائن میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 60سے زائد افراد جاں بحق، سینکڑوں زخمی، عمارتیں زمین بوس حکومت کی آئی ایم ایف کو این ایف سی اجلاس بلانے کی یقین دہانیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایکس اکاو نٹ جیل میں
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن