ڈکی بھائی جوا ایپ کیس میں اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کیخلاف جوئے کی ایپ کی تشہیر کے کیس کی سماعت میں یوٹیوبر کے وکیل نے دلائل پیش کردیئے۔
رپورٹ کے مطابق لاہور کی سیشن کورٹ میں یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کی جوئے کی ایپ کی تشہیر کے کیس کی سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران ڈکی بھائی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں کوئی ایک بھی گواہ موجود نہیں ہے، نہ ہی ان کے مؤکل کو کسی قسم کا نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی ان سے کوئی ایپ ریکور کی گئی ہے۔
وکیل نے مزید بتایا کہ انکوائری کا آغاز 30 جون کو ہوا، جبکہ ڈکی بھائی کو 13 اگست کو گرفتار کیا گیا اور مقدمہ 17 اگست کو درج کیا گیا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے پیکا 37 لگائی اسکا مطلب یہ کہ کیا یہ غیر قانونی ایکٹویٹی ہے تو پہلے اسکو بلاک کیا جاتا ہے ایسا کچھ نہیں ہوا۔
وکیل کے مطابق اگر یہ ایپس غیر قانونی تھیں تو سب سے پہلے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) یا متعلقہ ادارے کو انہیں بلاک کرنا چاہیے تھا، 2020 کر رول بھی انکو کہتے ہیں کہ اگر اسطرح غیر قانونی ایپس چل رہی ہیں تو انہیں بند کروائیں۔
وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جب تک مقدمہ درج ہوا، اس وقت تک پی ٹی اے نے ان ایپس کو نہ تو بین کیا تھا اور نہ ہی غیر قانونی قرار دیا تھا۔
وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مقدمے میں کوئی متاثرہ شخص بھی سامنے نہیں آیا، اس لیے کیس کو کمزور قرار دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔