data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈبلن: آئرلینڈ کے صدر مائیکل ہیگنز نے اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں غزہ جانے والی عالمی صمود فلوٹیلا پر حملے اور غزہ سٹی میں اہم شاہراہوں کی بندش کو پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دے دیا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس آئرلینڈ کے صدر نے کہا کہ جب عالمی برادری فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کو خطے میں امن کا بنیادی حل مانتی ہے تو پھر یہ عہد کہاں کھو گیا ہے کہ امداد لے کر جانے والی کشتی کو بھی اپنے انسانی مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جا رہا۔

مائیکل ہیگنز نے کہا کہ کارکنان کی سلامتی اور ان ممالک کے شہریوں کے تحفظ کا معاملہ اب پوری دنیا کا مسئلہ ہے، شمالی غزہ سے نکلنے کے راستے بند ہونے سے وہاں کے بے سہارا عوام مسلسل بمباری اور گھروں کی تباہی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انسانی ہمدردی کے ادارے بھی اپنے کام جاری نہیں رکھ پا رہے، ریڈ کراس نے بدھ کو اعلان کیا کہ وہ غزہ سٹی میں اپنا آپریشن بند کر کے عملے کو جنوبی غزہ منتقل کر رہا ہے۔ یہ اقدام اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں شدت کے باعث کیا گیا۔

خیال رہےکہ اسرائیلی بحریہ نے 80 ناٹیکل میل (148 کلومیٹر) کے فاصلے پر غزہ کے قریب پہنچنے والی بین الاقوامی امدادی فلوٹیلا پر حملہ کیا اور جہازوں پر سوار درجنوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ ان کارکنان کا تعلق دنیا کے 50 ممالک سے تھا، جو خوراک، ادویات اور دیگر ضروری امداد لے کر غزہ جا رہے تھے۔

غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے قائم انٹرنیشنل کمیٹی فار بریکنگ دی سیج آن غزہ (ICBSG) نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی بحریہ نے نہ صرف جہازوں کو زبردستی روکا بلکہ ایک بحری جہاز کو ٹکر ماری، واٹر کینن کا استعمال کیا اور کارکنان کو تشدد کے ساتھ حراست میں لیا۔ کمیٹی نے اسے پرامن مظاہرین کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا۔

غزہ کی انتظامیہ نے اسرائیلی اقدام کونسل کشی کی پالیسی کے تحت من مانا نفاذ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے نے لاکھوں بے گھر شہریوں کو مزید خطرات میں ڈال دیا ہے جو بمباری اور تباہی سے پہلے ہی محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں دربدر ہیں۔

واضح رہے کہ غزہ گزشتہ 18 برس سے اسرائیلی محاصرے میں ہے اور مارچ 2025 میں اسرائیل نے تمام بارڈر کراسنگ بند کر کے غذائی اجناس اور ادویات کی ترسیل روک دی تھی، جس سے قحط جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے،  اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی بمباری میں 66 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ غزہ ناقابلِ رہائش بنتا جا رہا ہے، جہاں بھوک، بیماری اور موت تیزی سے پھیل رہی ہے۔

یاد رہے کہ غزہ میں امداد کے نام پر امریکا اور اسرائیل دہشت گردی کر رہے ہیں، عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں جبکہ مسلم حکمران بھی بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم