گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کا عالمی برادری نوٹس لے،جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251003-11-14
لاہور (وقائع نگارخصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے غزہ کے مظلومین کے لئے انسانی ہمدردری کے تحت امداد لے کر جانے والے’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ میں جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت دیگر 45ممالک کے 500 شرکا پر اسرائیلی فوج کی جانب سے حملے اور گرفتاریاں انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں، اقوام متحدہ اور بالخصوص عالمی برادری کے منہ پر زور دار طمانچہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے تمام اخلاقی حدود کو عبور کر لیا ہے۔امن قافلے غیر مسلح،ان کا مقصد اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ میں ہونے والے ظلم و بربریت، نسل کشی، خواتین اور بچوں کو شہید کر نے والوں کا محاصرہ ختم کرنا اور امداد کو غزہ کے بچوں تک پہنچانا ہے۔ نہتے اور پر امن لوگوں کی گرفتاریوں کاعالمی برادری اس کا سخت نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ امداد لے کر جانے والے فلوٹیلا میں دنیا بھر سے افراد شامل ہیں جن کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہئے۔کتنے شرم کی بات ہے کہ اسرائیل ایک بد مست ہاتھی بن چکا ہے جس کے شر سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہا، نیتن یاہو نے عالمی امن کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ دنیا کو اپنی بے حسی ختم کرنی ہو گی۔ اسرائیل نے امریکی پشت پناہی پر 66ہزار سے زائد افراد کو شہید کر دیا ہے جس میں 70فیصد بچے اور خواتین شامل ہیں۔ نیتن یاہو کاغزہ خالی کرنے سے انکار اور قبضہ قائم رکھنے کے اعلان نے امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہا د امن معاہدے کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔حکومت پاکستان نے قوم کو اعتماد میں لئے بغیر جس عجلت میں ڈونلڈ ٹرمپ کے معاہدے پر آنکھیں بند کر کے آمین کہا، اس کا انجام سب کے سامنے ہے۔جماعت اسلامی 4اکتوبر کو لاہور میں غزہ میں ہونے والے مظالم اور نام نہاد امن معاہدے پر پاکستانی حکومت کے موقف کے خلاف ملین مارچ کرے گی۔دو ریاستی حل کی آڑ میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنے دیں گے۔حکومت غلامی کی سیاست چھو ڑ کر قومی وقار اور جرات کی سیاست کریں۔محمد جاوید قصوری نے آزاد کشمیر میں ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں 9افراد کی ہلاک پر شدید غم و غصے اورافسوس کا اظہا ر کرتے اسے قابل مذمت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات کو کنٹرول میں رکھنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے جو کہ وہ پوری کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ حکمران عقل سے کام لیں اور امن کو قائم کیا جائے۔ جماعت اسلامی پر امن احتجاج کی حمایت کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن