موٹرسائیکل، رکشہ اور گاڑیوں کے اخراج ٹیسٹ کی فیس لازمی قرار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
سٹی 42 : ڈی جی ماحولیات پنجاب عمران حامد شیخ نے موٹرسائیکل، رکشہ اور گاڑیوں کے اخراج ٹیسٹ کی فیس لازمی قرار دے دی ۔
موٹر سائیکل کے اخراج ٹیسٹ کی فیس 100 روپے مقرر کی گئی، جس کی خلاف ورزی پر کارروائی ہو گی ، جبکہ رکشہ مالکان کے لیے ٹیسٹ فیس 300 روپے جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ 1000 سی سی تک کاروں کا اخراج ٹیسٹ 500 روپے مقرر کیا گیا۔
1000 سے 1500 سی سی کاروں کا ٹیسٹ 800 روپے، عدم ادائیگی پر جرمانہ ہو گا۔ 1500 سے 2500 سی سی گاڑیوں کا اخراج ٹیسٹ 1000 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
نائٹ شفٹ میں کام کرنے والوں کو گردے کی پتھری کا زیادہ خطرہ ؛ تحقیق سامنے آگئی
ڈی جی ماحولیات پنجاب عمران حامد شیخ نے کہا ہے کہ 2500 سے 4500 سی سی گاڑیوں کا ٹیسٹ 1500 روپے، مالکان کو فوری پابندی کرنی ہوگی۔ 4500 سی سی سے زائد گاڑیوں کی فیس 2000 روپے، تمام مالکان فوری جمع کرائیں۔ انہوں نے کہاکہ تمام فیسیں سرکاری اکاؤنٹ نمبر C-03855 میں جمع ہوں گی، کوئی رعایت نہیں دی جائے گی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اخراج ٹیسٹ کی فیس
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔