کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی جامعہ کراچی کی جانب سے ڈگری منسوخی کے فیصلے کو معطل کر دیا۔

کیس کی سماعت 2 رکنی بینچ نے جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں کی، جہاں ایڈووکیٹ جنرل سندھ، جامعہ کراچی کے رجسٹرار پروفیسر عمران صدیقی اور دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران رجسٹرار جامعہ کراچی نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں محض دو روز قبل نوٹس ملا ہے، اس لیے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دی جائے۔ اس پر جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے استفسار کیا کہ جواب کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا۔

دوسری جانب جسٹس جہانگیری کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ فریقین کو وقت دیا جائے لیکن اس دوران ڈگری منسوخی کا فیصلہ معطل ہونا چاہیے تاکہ موکل کو نقصان نہ پہنچے۔

بینچ نے ریمارکس میں کہا کہ یہاں ایک شخص کی پوری زندگی کی محنت داؤ پر لگی ہے، اگر بعد میں فیصلہ واپس ہو گیا تو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟ عدالت نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا ڈگری کے حوالے سے کارروائی سے قبل جسٹس جہانگیری کو نوٹس جاری کیا گیا تھا یا نہیں۔ رجسٹرار نے لاعلمی کا اظہار کیا جس پر عدالت نے کہا کہ فریقین کو سنے بغیر کوئی بھی فیصلہ غیر مؤثر ہوتا ہے، یکطرفہ ججمنٹ کو بہتر نہیں سمجھا جاتا۔

عدالت نے جامعہ کراچی کی جانب سے جاری کردہ ڈگری منسوخی کا حکم فوری طور پر معطل کرتے ہوئے سنڈیکیٹ اور ان فیئر مینز کمیٹی کی سفارشات پر مزید کارروائی سے بھی روک دیا۔ کیس کی مزید سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: جامعہ کراچی ڈگری منسوخی

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن