بھارتی نوجوان روسی جنگ کا ایندھن
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
ریاض احمدچودھری
مودی سرکار ایک طرف دنیا کے سامنے نیشن فرسٹ کا نعرہ لگاتی ہے اور دوسری طرف اپنے ہی نوجوانوں کو غیر ملکی جنگ میں جھونک کر ان کی زندگیاں داؤ پر لگا رہی ہے۔ یہ دوغلا پن صرف بھارت کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہے۔ روس یوکرین جنگ میں بھارتی نوجوانوں کا بطور ایندھن استعمال ہونا اس المیے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی المیہ ہے، جہاں نوجوان نسل جھوٹے وعدوں اور لالچ کے ذریعے غیر ملکی جنگ کے میدانوں میں دھکیل دی جا رہی ہے۔
نئی دہلی نے روس سے مزید 27 بھارتی شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جنہیں دھوکہ سے روسی فوج میں شامل کیا گیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے حال ہی میں ایک اہم بیان میں بتایا کہ مزید 27 بھارتی شہری روسی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے اہل خانہ سے نئی معلومات موصول ہوئی ہیں۔ بھارت نے اس معاملے کو روسی حکام کے ساتھ سختی سے اٹھایا ہے۔ نئی دہلی نے ماسکو اور نئی دہلی میں روسی سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے۔ بھارت ان شہریوں کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔وزارت خارجہ نے تمام بھارتی شہریوں کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے۔ انہیں روسی فوج میں شامل ہونے کی پیشکشوں سے دور رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ یہ پیشکشیں جان لیوا خطرات سے بھری ہوئی ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ کچھ بھارتی شہری، جو طالب علم یا کاروباری ویزوں پر تھے، انہیں روسی فوج میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا۔ یہ افراد یوکرین میں جنگ کے محاذوں پر تعینات ہیں۔ بھارت نے پہلے بھی معاون عملے کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، روسی فوج میں بھرتی ہونے والے بھارتیوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس تنازعے میں کم از کم 12 بھارتی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 16 لاپتہ ہیں۔لیکن کہا جارہا ہے کہ یہ سب کچھ وزیر اعظم مودی کی مرضی سے ہو رہا ہے۔
بھارت کے سینٹر ل بیورو آف انویسٹی گیشن نے نوجوانوں کو یوکرین جنگ میں لڑنے کے لیے روس لے جانے والے ایک بڑے نیٹ ورک کا انکشاف کیا ہے۔ انسانی اسمگلروں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مقامی ایجنٹوں کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنایا۔اس اسکینڈل میں اب تک تقریباً 35 مردوں کو روس بھیجا جا چکا ہے۔ یہ تعداد ان 20 مردوں میں اضافہ ہے جن کا ذکر بھارتی وزارت خارجہ نے اس سے قبل کیا تھا۔ان کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ کم از کم دو افراد جو فوج میں "مددگار” کے طور پر کام کرنے کی امید پر روس گئے تھے، اگلے محاذ پر لڑتے ہوئے ہلاک ہو گئے ہیں۔ روس میں بھارتی سفارت خانے نے ان میں سے ایک کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔اسمگل کیے گئے بھارتی شہریوں کو جنگی تربیت دی گئی اور ان کی مرضی کے خلاف روسـیوکرین جنگی زون میں اگلے محاذ پر تعینات کیا گیا۔ کچھ متاثرین جنگی زون میں "شدید زخمی” بھی ہوئے تھے۔فروری 2022 میں روس کی یوکرین پر کی جانے والی اس کارروائی میں ،جسے ماسکو نے "خصوصی فوجی آپریشن” قرار دیا، دونوں جانب کے ہزاروں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔نئی دہلی اور ماسکو کے درمیان کئی دہائیوں سے قریبی تعلقات رہے ہیں اور بھارت نے یوکرین کے ساتھ جنگ پر روس کی مذمت کرنے سے انکار کرتے ہوئے دونوں فریقوں پر تنازع کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ختم کرنے پر زور دیا ہے۔بھارت نے روس کے سستے تیل کی خریداری میں بھی اضافہ کیا ہے جس نے مغربی دارالحکومتوں کو بہت زیادہ مایوس کیا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی روس نواز پالیسیوں نے بھارتی نوجوانوں کو غیر ملکی جنگ کا ایندھن بنا دیا ہے۔روس یوکرین جنگ میں پھنسے بھارتی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہیں نوکریوں کا جھانسہ دیکر روس لے جایا گیا اور وہاں بغیر کسی فوجی تربیت کے زبردستی جنگ کے محاذ پر دھکیل دیا گیا۔بھارت خودکو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہہ کر پکارتا ہے مگر نریندر مودی کے دور میں یہ جمہوریت ایک ایسے فاشسٹ نظام میں بدل چکی ہے جو صرف جنگ، نفرت اور انتہا پسندی کو ہوا دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ نشست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کی اس مکروہ حقیقت پر پردہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت روس سے تیل خرید کر جنگ کو مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔بھارتی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہیں بنیادی سہولتیں، کھانا اور پانی تک فراہم نہیں کیا جا رہا اور اگر آواز بلند کریں تو دھمکایا جاتا ہے کہ”آپ یوکرین میں ہیں، یہاں کوئی آپ کی نہیں سنے گا”۔ ایک ویڈیو پیغام میں بھارتی نوجوانوں نے کہا کہ یہ ان کی آخری ویڈیوہو سکتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران بھارت کو روس کی مالی مدد کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت روس سے سستا تیل خرید کر یوکرین جنگ کو تقویت دے رہا ہے۔کچھ روز قبل کانگریس کے ایم ایل اے پرگت سنگھ نے اس حقیقت کو مزید کھول کر بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے نوجوان غیر ملکی میدان جنگ میں مر رہے ہیں اور حکومت نے ان کے خاندانوں کو بھی بے خبر چھوڑ دیا ہے۔ یہ بیانیہ صرف ایک اپوزیشن لیڈر کا الزام نہیں بلکہ بھارتی عوام کی ایک گہری تشویش ہے۔ جب ملک کے اندر اپنے ہی عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہو تو پھر بیرونی دنیا میں بھارت کی پالیسیوں سے خیر کی توقع رکھنا محض بھول ہے۔ماہرین کے مطابق مودی حکومت کی فسطائی پالیسیوںنے نہ صرف بھارتی نوجوانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے بلکہ بھارت کو شدید سفارتی اور معاشی نقصانات کا بھی سامنا ہے۔
٭٭٭
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بھارتی نوجوانوں روسی فوج میں نوجوانوں کو یوکرین جنگ میں بھارت بھارت نے کہ بھارت نئی دہلی غیر ملکی دیا ہے رہا ہے کیا ہے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔