Juraat:
2026-07-24@03:46:56 GMT

بھارتی نوجوان روسی جنگ کا ایندھن

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

بھارتی نوجوان روسی جنگ کا ایندھن

ریاض احمدچودھری

مودی سرکار ایک طرف دنیا کے سامنے نیشن فرسٹ کا نعرہ لگاتی ہے اور دوسری طرف اپنے ہی نوجوانوں کو غیر ملکی جنگ میں جھونک کر ان کی زندگیاں داؤ پر لگا رہی ہے۔ یہ دوغلا پن صرف بھارت کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہے۔ روس یوکرین جنگ میں بھارتی نوجوانوں کا بطور ایندھن استعمال ہونا اس المیے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی المیہ ہے، جہاں نوجوان نسل جھوٹے وعدوں اور لالچ کے ذریعے غیر ملکی جنگ کے میدانوں میں دھکیل دی جا رہی ہے۔
نئی دہلی نے روس سے مزید 27 بھارتی شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جنہیں دھوکہ سے روسی فوج میں شامل کیا گیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے حال ہی میں ایک اہم بیان میں بتایا کہ مزید 27 بھارتی شہری روسی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے اہل خانہ سے نئی معلومات موصول ہوئی ہیں۔ بھارت نے اس معاملے کو روسی حکام کے ساتھ سختی سے اٹھایا ہے۔ نئی دہلی نے ماسکو اور نئی دہلی میں روسی سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے۔ بھارت ان شہریوں کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔وزارت خارجہ نے تمام بھارتی شہریوں کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے۔ انہیں روسی فوج میں شامل ہونے کی پیشکشوں سے دور رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ یہ پیشکشیں جان لیوا خطرات سے بھری ہوئی ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ کچھ بھارتی شہری، جو طالب علم یا کاروباری ویزوں پر تھے، انہیں روسی فوج میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا۔ یہ افراد یوکرین میں جنگ کے محاذوں پر تعینات ہیں۔ بھارت نے پہلے بھی معاون عملے کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، روسی فوج میں بھرتی ہونے والے بھارتیوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس تنازعے میں کم از کم 12 بھارتی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 16 لاپتہ ہیں۔لیکن کہا جارہا ہے کہ یہ سب کچھ وزیر اعظم مودی کی مرضی سے ہو رہا ہے۔
بھارت کے سینٹر ل بیورو آف انویسٹی گیشن نے نوجوانوں کو یوکرین جنگ میں لڑنے کے لیے روس لے جانے والے ایک بڑے نیٹ ورک کا انکشاف کیا ہے۔ انسانی اسمگلروں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مقامی ایجنٹوں کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنایا۔اس اسکینڈل میں اب تک تقریباً 35 مردوں کو روس بھیجا جا چکا ہے۔ یہ تعداد ان 20 مردوں میں اضافہ ہے جن کا ذکر بھارتی وزارت خارجہ نے اس سے قبل کیا تھا۔ان کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ کم از کم دو افراد جو فوج میں "مددگار” کے طور پر کام کرنے کی امید پر روس گئے تھے، اگلے محاذ پر لڑتے ہوئے ہلاک ہو گئے ہیں۔ روس میں بھارتی سفارت خانے نے ان میں سے ایک کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔اسمگل کیے گئے بھارتی شہریوں کو جنگی تربیت دی گئی اور ان کی مرضی کے خلاف روسـیوکرین جنگی زون میں اگلے محاذ پر تعینات کیا گیا۔ کچھ متاثرین جنگی زون میں "شدید زخمی” بھی ہوئے تھے۔فروری 2022 میں روس کی یوکرین پر کی جانے والی اس کارروائی میں ،جسے ماسکو نے "خصوصی فوجی آپریشن” قرار دیا، دونوں جانب کے ہزاروں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔نئی دہلی اور ماسکو کے درمیان کئی دہائیوں سے قریبی تعلقات رہے ہیں اور بھارت نے یوکرین کے ساتھ جنگ پر روس کی مذمت کرنے سے انکار کرتے ہوئے دونوں فریقوں پر تنازع کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ختم کرنے پر زور دیا ہے۔بھارت نے روس کے سستے تیل کی خریداری میں بھی اضافہ کیا ہے جس نے مغربی دارالحکومتوں کو بہت زیادہ مایوس کیا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی روس نواز پالیسیوں نے بھارتی نوجوانوں کو غیر ملکی جنگ کا ایندھن بنا دیا ہے۔روس یوکرین جنگ میں پھنسے بھارتی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہیں نوکریوں کا جھانسہ دیکر روس لے جایا گیا اور وہاں بغیر کسی فوجی تربیت کے زبردستی جنگ کے محاذ پر دھکیل دیا گیا۔بھارت خودکو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہہ کر پکارتا ہے مگر نریندر مودی کے دور میں یہ جمہوریت ایک ایسے فاشسٹ نظام میں بدل چکی ہے جو صرف جنگ، نفرت اور انتہا پسندی کو ہوا دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ نشست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کی اس مکروہ حقیقت پر پردہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت روس سے تیل خرید کر جنگ کو مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔بھارتی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہیں بنیادی سہولتیں، کھانا اور پانی تک فراہم نہیں کیا جا رہا اور اگر آواز بلند کریں تو دھمکایا جاتا ہے کہ”آپ یوکرین میں ہیں، یہاں کوئی آپ کی نہیں سنے گا”۔ ایک ویڈیو پیغام میں بھارتی نوجوانوں نے کہا کہ یہ ان کی آخری ویڈیوہو سکتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران بھارت کو روس کی مالی مدد کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت روس سے سستا تیل خرید کر یوکرین جنگ کو تقویت دے رہا ہے۔کچھ روز قبل کانگریس کے ایم ایل اے پرگت سنگھ نے اس حقیقت کو مزید کھول کر بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے نوجوان غیر ملکی میدان جنگ میں مر رہے ہیں اور حکومت نے ان کے خاندانوں کو بھی بے خبر چھوڑ دیا ہے۔ یہ بیانیہ صرف ایک اپوزیشن لیڈر کا الزام نہیں بلکہ بھارتی عوام کی ایک گہری تشویش ہے۔ جب ملک کے اندر اپنے ہی عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہو تو پھر بیرونی دنیا میں بھارت کی پالیسیوں سے خیر کی توقع رکھنا محض بھول ہے۔ماہرین کے مطابق مودی حکومت کی فسطائی پالیسیوںنے نہ صرف بھارتی نوجوانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے بلکہ بھارت کو شدید سفارتی اور معاشی نقصانات کا بھی سامنا ہے۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: بھارتی نوجوانوں روسی فوج میں نوجوانوں کو یوکرین جنگ میں بھارت بھارت نے کہ بھارت نئی دہلی غیر ملکی دیا ہے رہا ہے کیا ہے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا