بھارتی وزیر دفاع کی کراچی پر حملے کی دھمکی گیڈربھبکی کے سواء کچھ نہیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251006-2-11
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلزپارٹی حیدرآباد کے سینئر رہنما سابق جنرل سیکریٹری پی ایس 64 عبدالمنان صدیقی نے اپنے بیان میں بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی جانب سے کراچی پر حملہ کرنے کی دھمکی کو گیدڑ بھبکی قرار دیتے ہوئے ان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاید ان سے ہمارے تھنڈر طیارے کا خوف دل سے نکل گیا ہے اوروہ اپنی بزدل فوج کا خوف نکالنے کیلئے ان کے سامنے دلیر بننے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ، بھارت کی عوام بھی جانتی ہے کہ پاکستان کے دلیر محافظ ہمارے ہی ملک میں داخل ہوکر ایک طیارے تھندژسے تھوڑے ٹائم میں ہمارے بھارت کے دفاعی تنصیبات کو کھنڈر بنا چکا تھا ہمارا وزیراعظم نریندر مودی امریکا کے صدرکے قدموں میں گھڑکھڑاکرجنگ بندی نہ کراتا تو اور پاکستانی محافظوں کو مزید وقت ملتا تو اسی تھنڑ سے بھارت کو کھنڈڑ بناکے دنیا کے نقشے سے مٹا کے پھر واپس جاتے، ہم سلام پیش کرتے ہیں اپنی بہادر پاک فوج کو جنہوں نے کراچی پر حملہ کا دو ٹوک الفاظ میں ایسا جواب دیا کہ بھارت کے حکمرانوں کا پھر سے پجامہ گیلا ہوگیا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔