ووٹ چوری جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی سازش ہے جسے ہم کامیاب نہیں ہونے دینگے، دیویندر یادو
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
قاضی نظام الدین نے کہا کہ اب حالات بدل رہے ہیں اور بھارتی نوجوان سمجھ چکے ہیں کہ اصل جدوجہد نوکریوں یا معاشی مسائل کی نہیں بلکہ ووٹ چوری کے خلاف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے آج بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی کی جانب سے منعقدہ دستخطی مہم میں حصہ لیا، جس میں عوام سے رابطہ کر کے ووٹ چوری کے خلاف دستخط لئے گئے۔ دیویندر یادو نے کہا کہ ووٹ چوری جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی سازش ہے، جسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ہزاروں کانگریس کارکنوں نے بازاروں، سڑکوں، ریہڑی پٹری اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں سے رابطہ کیا اور ووٹ چوری کے خلاف ان کے دستخط حاصل کئے۔ دیویندر یادو نے بتایا کہ نوجوان، دکاندار، مزدور، نائی، موچی اور کھانے کے چھوٹے کاروبار کرنے والے سب اس مہم میں فعال طور پر شریک ہیں۔ دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی میں جاری دستخطی مہم عوام کو متوجہ کر رہی ہے اور بلاک کانگریس کمیٹیوں کی ماہانہ ملاقاتوں میں بھی اس پر بات کی گئی ہے۔
بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر راجکمار جین نے پروگرام کا انتظام کیا۔ اے آئی سی سی کے دہلی انچارج قاضی نظام الدین، سابق رکن اسمبلی بھیشم شرما، حاجی بھورے خان، یونُس، عبد الرحمٰن اور دیگر کانگریس رہنما بھی موجود تھے۔ کارکنان نے نعرے بازی بھی کی، جس میں ووٹ چور گدی چھوڑ کے کے نعرے شامل تھے۔ دیویندر یادو نے کہا کہ ووٹ چوری ایک سنگین جرم ہے، جس کے ذریعے بی جے پی اور انتخابی کمیشن عوام کے حق رائے دہی پر حملہ کر رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے دو اسمبلیوں کی مثال پیش کی، جس سے ووٹ چوری کی سازش بے نقاب ہوگئی ہے۔ کانگریس کی ہدایت پر پورے ملک میں ووٹ چوری کے خلاف دستخطی مہم جاری ہے۔
دیویندر یادو نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ جمہوریت کی حفاظت کریں اور ووٹ چوری روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ بی جے پی نے انتخابات میں بے ایمانی سے کامیابی حاصل کی اور دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے بھی ووٹ چوری کا اعتراف کیا ہے۔ قاضی نظام الدین نے کہا کہ اب حالات بدل رہے ہیں اور بھارتی نوجوان سمجھ چکے ہیں کہ اصل جدوجہد نوکریوں یا معاشی مسائل کی نہیں بلکہ ووٹ چوری کے خلاف ہے۔ ووٹ چوری کا خاتمہ ہی سب سے بڑی قومی ذمہ داری اور حب الوطنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ چوری کے سبب بے روزگاری 45 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دیویندر یادو نے نے کہا کہ
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔