ایجنسیوں کا ججز تقرر یا تبادلے میں آئینی کردار نہیں، جسٹس شکیل
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ کے جسٹس شکیل احمد نے ججز ٹرانسفر کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 ججوں کے ساتھ اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ججوں کی تقرری یا تبادلے سے متعلق معاملات میں کوئی آئینی کردار نہیں ہے۔
23 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ میں انہوں نے کہا کہ پانچ درخواست گزار ججوں کے وکیل کا دعویٰ متاثر کن نہیں کہ ججز کے تبادلے پانچ موجودہ ججوں کی طرف سے دی گئی تحریری شکایت کی وجہ سے ہوئے جو انھوں نے اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان کو، بطور چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل دیئے تھے اور جن میں عدالتی امور میں مداخلت اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مبینہ دھمکیوں کا ذکر تھا۔
سپریم کورٹ آئینی بنچ نے 3 کے مقابلے 2 کی اکثریت سے مختلف ہائی کورٹس سے تین ججوں کے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلے کی توثیق کی ہے۔
جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں جج کا مستقل تبادلہ دوسری عدالت کے ججز کی سنیارٹی کو متاثر کرتا ہے، یہ نہ صرف اس کورٹ کے ججوں کے لیے ذاتی نقصان کا باعث بنتا ہے بلکہ عدالتی آزادی کے لیے بھی خطرہ ہے۔
اختلافی نوٹ کے مطابق وزارت قانون کی سمری میں ججز کی سنیارٹی اور ٹرانسفر ہونے والے ججوں کے نئے حلف سمیت متعدد مضمرات کو نظرانداز کیا گیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان، متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز اور ٹرانسفر ہونے والے ججوں کے سامنے مکمل اور درست معلومات پیش نہیں کی گئیں۔
یہ اقدامٔ بدنیتی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ممکنہ طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین ججوں کو غیراہم، اس کے ادارتی ڈھانچے کو متاثر کرنے یا اس کے چیف جسٹس کی تقرری کے عمل پر اثرانداز ہونے کیلئے کیا گیا۔
اس تبادلے کا براہ راست اثر سنیارٹی لسٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی ایڈمنسٹریٹو کمیٹی کی تشکیل پر پڑا، جو عدالتی سالمیت کو برقرار رکھنے میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس طرح کی معلومات کو جان بوجھ کر روکنا انصاف کے اصول کی خلاف ورزی، شفافیت اور عدالتی آزادی کے اصولوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائی کورٹ چیف جسٹس کورٹ کے ججوں کے
پڑھیں:
اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
وزیر اعلیٰ نے انہیں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات اور گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے اسمبلی قرارداد سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی اور انہیں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات اور گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے اسمبلی قرارداد سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ملاقات میں جی بی میں حکومت سازی، خطے کے مسائل اور پارٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔