بی جے پی ووٹ چوری سے اقتدار پر قابض ہے، ووٹ چوری کے خلاف کانگریس کی دستخطی مہم
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
مہم کے دوران بڑی تعداد میں نوجوانوں اور ورکروں نے دستخط کرکے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ووٹ کے تقدس کو برقرار رکھنے، جمہوری عمل کو مضبوط بنانے اور کسی بھی قسم کی انتخابی دھاندلی کے خلاف آواز بلند کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس کی جانب سے آج جموں و کشمیر کے قصبہ ترال میں ووٹ چوری کے خلاف دستخطی مہم کا اہتمام کیا گیا۔ اس مہم کا مقصد عوام میں انتخابی شفافیت، جمہوری اقدار کے تحفظ اور ووٹ کی اہمیت کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا تھا۔ تقریب کا افتتاح کانگریس کے نائب صدر سریندر سنگھ چنی نے کیا۔ اس موقع پر یوتھ کانگریس کے معروف لیڈران منپریت سنگھ، آصف رحمان اور دیگر سینئر کارکنان بھی موجود تھے۔ مہم کے دوران بڑی تعداد میں نوجوانوں اور ورکروں نے دستخط کرکے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ووٹ کے تقدس کو برقرار رکھنے، جمہوری عمل کو مضبوط بنانے اور کسی بھی قسم کی انتخابی دھاندلی کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ ووٹ عوام کی طاقت ہے اور اگر ووٹ چوری یا دھاندلی کے ذریعے عوامی فیصلہ متاثر کیا جائے تو یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئندہ بھی اس طرح کی بیداری مہم جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں میں جمہوری شعور مزید مضبوط ہو۔ سریندر سنگھ چنی نے کہا کہ اگر امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بیلٹ بکس کا استعمال کیا جا رہا ہے تو پھر بھارت جیسے ملک میں ووٹ مشینوں کا استعمال کیوں لازمی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ جہاں آن لائن طریقے سے آپ کا اکاونٹ صاف کیا جاتا ہے وہیں آپ کے ووٹ بھی چوری کئے جا سکتے ہیں۔ اس لئے راہل گاندھی ملک بھر میں ووٹ چوری کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تاکہ عوامی سطح پر بیداری پیدا کی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک