اسلام آباد:

وفاقی پولیس کی جانب سے نیشنل پریس کلب پر حملے کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے چارٹر آف ڈیمانڈ وزارت داخلہ کے حوالے کردیا، جس میں ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی، 24 گھنٹے میں انکوائری کمیٹی کا نوٹفکیشن جاری کرتے ہوئے 4 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اظہر جتوئی کی سربراہی میں وفد کی صورت میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے ملاقات کی اور اس موقع پر سیکریٹری نیشنل پریس کلب نیر علی نے طلال چوہدری کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

طلال چوہدری نے کہا کہ چارٹر آف ڈیمانڈ کی روشنی میں ملک بھر کے پریس کلبز کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم، وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات نے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا اور مکمل تحقیقات کے احکامات جاری کیے۔

وزیرمملکت داخلہ نے کہا کہ پولیس اب کسی پریس کلب میں داخلے سے قبل انتظامیہ سے اجازت لے گی۔

صحافیوں کی جانب سے نیشنل پریس کلب پر حملے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور سفارش کی ہے کہ وزارت داخلہ، اطلاعات اور پریس کلب کے نمائندوں پر مشتمل انکوائری کمیٹی بنائے جائے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ انکوائری کمیٹی 24 گھنٹے میں نوٹیفکیشن جاری کرے اور 4 روز میں رپورٹ پیش کرے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں پریس کلبز کے تحفظ کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

کمیٹی نے چارٹر آف ڈیمانڈ میں کہا ہے کہ پریس کلبز اور صحافتی اداروں کے تحفظ کے لیے وزارت داخلہ سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اظہار تشویش کیا کہ چار سال بعد بھی جرنلسٹس پروٹیکشن کمیشن فعال نہ ہو سکا لہٰذا دو ہفتے میں کمیشن مکمل کر کے ایکٹ کو فعال بنایا جائے۔

نیشنل پریس کلب کی کمیٹی نے کہا کہ پریس کلبز اور یونینز کے تقدس کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ سے متفقہ قرارداد منظور کی جائے۔

وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور دیگر سے رابطوں کی یقین دہانی کروائی۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے چارٹر آف ڈیمانڈ نیشنل پریس کلب طلال چوہدری پریس کلبز نے کہا کہ کے خلاف

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا