پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر، الیکشن کمیشن آج اہم فیصلہ سنائے گا
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی حکومت کے انتخابات کے انعقاد میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا، جو آج سنایا جائے گا۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت چار رکنی بینچ نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید اور دیگر اعلیٰ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کنٹونمنٹ بورڈز میں بھرپور کوششوں سے بلدیاتی انتخابات کرائے، لیکن تمام صوبائی حکومتوں نے انتخابات میں تاخیر کی اور رکاوٹیں ڈالیں۔ پنجاب حکومت نے بالخصوص بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں مسلسل رکاوٹ ڈالی، حالانکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد آئینی ذمہ داری ہے۔
الیکشن کمیشن حکام نے بتایا کہ پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی مدت 31 دسمبر 2021 کو ختم ہو چکی ہے اور تین سال نو ماہ سے الیکشن نہیں کرائے جا سکے۔ اس دوران پنجاب حکومت نے مقامی حکومت کے قانون میں پانچ مرتبہ تبدیلی کی، اور اب چھٹی بار قانون میں ترمیم کی جا رہی ہے۔ کمیشن نے تین مرتبہ حلقہ بندیاں کیں اور ایک بار الیکشن شیڈول کا اعلان بھی کیا، تاہم انتخابات نہ ہو سکے۔
سماعت میں بتایا گیا کہ 2022 کا مقامی حکومت کا قانون اب بھی موجود ہے اور اس کے تحت انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ اگر ای وی ایم دستیاب نہ ہو تو بیلٹ پیپرز کے ذریعے بھی الیکشن ممکن ہیں۔ ڈی جی لاء نے کہا کہ 2022 کے قواعد کے تحت انتخابات کے انعقاد میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں۔
اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ پنجاب میں انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں میں دو سے ڈھائی ماہ درکار ہوں گے، اور اب ہمیں پیش رفت کرنی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں رکاوٹ کی صورت میں سنگین نتائج ہوں گے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے ریمارکس دیے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تین سال نو ماہ کی تاخیر ہو چکی ہے، جو نہ صرف الیکشن کمیشن بلکہ تمام حکومتوں کے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مختلف حکومتیں بلدیاتی الیکشن کرانے میں سنجیدہ نہیں رہیں اور وقت آگیا ہے کہ الیکشن کمیشن آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی حکومت واقعی بلدیاتی انتخابات نہیں کرانا چاہتی تو وہ آئین میں ترمیم کر دے اور واضح کر دے کہ مقامی حکومت کی ضرورت ہی نہیں۔ لیکن جب تک قانون موجود ہے، الیکشن کمیشن اس پر عمل درآمد کروانے کا پابند ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ قائمہ کمیٹی نے بلدیاتی حکومت کے نئے قانون کو 6 اگست کو کلیئر کر دیا تھا، مگر سیلاب اور اسمبلی اجلاس نہ ہونے کے باعث قانون کی منظوری میں تاخیر ہوئی۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اگلے اسمبلی اجلاس میں بل پیش کیا جائے گا۔
دریں اثنا، لاہور ہائی کورٹ میں جماعت اسلامی کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے لیے دائر درخواست کی سماعت 14 اکتوبر کو مقرر ہے، جس کے لیے الیکشن کمیشن کو جواب بھی دینا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کل ایک وفاقی وزیر نے بیان دیا کہ پنجاب اور اسلام آباد انتخابات کے لیے تیار ہیں اور تاخیر الیکشن کمیشن کر رہا ہے، جبکہ اصل تاخیر حکومتیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب الیکشن کمیشن کی حیثیت سے فیصلہ کرنا ہوگا اور انتخابات کا اعلان کر دینا چاہیے۔
سماعت مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جو آج کسی بھی وقت سنایا جائے گا، جس کے بعد پنجاب میں حلقہ بندیوں کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلدیاتی انتخابات میں پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کمیشن نے انتخابات کے میں تاخیر نے کہا کہ کہ پنجاب جائے گا کے لیے
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔