غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق: حماس اور اسرائیل اب کیا کریں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق: حماس اور اسرائیل اب کیا کریں گے؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 October, 2025 سب نیوز
دو سال کی خونریز جنگ، ہزاروں انسانی جانوں کے ضیاع اور غزہ کی تباہی کے بعد بالآخر مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک بڑی کرن نمودار ہوئی ہے۔ اسرائیل اور حماس نے امریکا اور قطر کی ثالثی میں ”غزہ امن منصوبے“ کے پہلے مرحلے پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔ یہ اتفاق قطر، مصر اور ترکیہ کی سفارتی کوششوں سے ممکن ہوا ہے اور اس نے پورے خطے میں ایک نئی سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں اعلان کیا کہ اس معاہدے کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان فوری جنگ بندی ہوگی، تمام یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئے گی، جبکہ اسرائیلی فوج طے شدہ حد تک غزہ سے انخلا کرے گی۔
ان کے مطابق، یہ اقدام ایک ”مضبوط، پائیدار اور دائمی امن“ کی طرف پہلا قدم ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ تمام فریقین کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے گا۔ انہوں نے قطر، مصر اور ترکیہ کے کردار کو سراہا، جنہوں نے مذاکراتی عمل میں کلیدی کردار ادا کیا۔
معاہدے کے تحت اقدامات
معاہدے کے مطابق، حماس اپنے قبضے میں موجود 20 زندہ اور مارے جاچکے اسرائیلی یرغمالیوں کو اسرائیل کے حوالے کرے گی جبکہ اس کے بدلے میں اسرائیل فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرے گا۔
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کے بیشتر علاقوں سے جزوی انخلا کرے گی، جس کے بعد فوجی دستے ”یلو لائن“ تک واپس جائیں گے، یعنی وہ حد جہاں سے مزید کارروائی نہیں ہوگی۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق، دستوں کو نئی تعیناتی لائنوں پر منتقل کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فوج مکمل طور پر نہیں جائے گی بلکہ نگرانی اور انٹیلیجنس آپریشن جاری رہیں گے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
حماس کا ردِعمل اور شرائط
حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ غزہ میں جنگ کے خاتمے، اسرائیلی انخلا، انسانی امداد کی فراہمی اور قیدیوں کے تبادلے پر مشتمل ہے۔
حماس کے ترجمان نے کہا، ’ہم اپنے وعدے پر قائم ہیں، مگر اسرائیل کو معاہدے کی ہر شرط پر عمل کرنا ہوگا۔‘
حماس نے امریکا اور ثالث ممالک سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کو کسی بھی تاخیر یا وعدہ خلافی سے روکیں۔
حماس کے رہنماؤں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اپنے عوام کے حقِ خودارادیت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اسرائیل کا موقف
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی صدر ٹرمپ سے رابطے میں معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی درخواست کی ہے۔
اسرائیلی سفیر یحیئیل لیٹر کے مطابق، اسرائیلی سلامتی کابینہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی فہرست کی منظوری دے رہی ہے، جس کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر قیدیوں کا تبادلہ شروع ہو جائے گا۔
عالمی ردِعمل اور عوامی جذبات
غزہ اور خان یونس میں امن معاہدے کی خبر پھیلتے ہی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ فضا میں خوشی کے نعرے گونجنے لگے۔ فلسطینی پرچموں کے ساتھ بچے اور نوجوان جشن مناتے دکھائی دیے۔
عالمی سطح پر اس معاہدے کو ٹرمپ انتظامیہ کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
ابھی کیا غیر واضح ہے؟
اگرچہ یہ امن معاہدہ ایک بڑی پیش رفت ہے، مگر کئی سوالات ابھی باقی ہیں، جیسے کہ غزہ کا آئندہ انتظام کون سنبھالے گا؟ حماس کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟ اور فلسطینی اتھارٹی کا کردار کب شروع ہوگا؟
صدر ٹرمپ کے مجوزہ ”بورڈ آف پیس“ کے تحت غزہ کی نگرانی ایک بین الاقوامی ادارہ کرے گا جس کی سربراہی ٹرمپ خود کریں گے اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر بھی اس کا حصہ ہوں گے۔
چیلنجز اور خطرات
مجوزہ غزہ امن معاہدہ اگرچہ امید کی کرن ہے، مگر چیلنجز کم نہیں۔ حماس نے اسرائیل کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ غیر مسلح ہو جائے۔ اختلاف یہ بھی ہے کہ اسرائیلی فوجی انخلا کب اور کیسے مکمل ہو گا۔
عرب ممالک چاہتے ہیں کہ اس امن منصوبے کا اختتام فلسطینی ریاست کے قیام پر ہو، مگر نیتن یاہو اب بھی اس خیال کی مخالفت کرتے ہیں۔
نیتن یاہو کی پالیسیوں کے باعث اسرائیل میں ان کی مخالفت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ غزہ امن منصوبہ ان کی حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین میں8 روزہ تعطیلات کے دوران مختلف معاشی اشاریوں میں نمایاں اضافہ اسپین نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی خرید وفروخت روکنے کا قانون منظور کرلیا حماس اور اسرائیل کے درمیان آج تاریخی غزہ امن معاہدے پر باقاعدہ دستخط ہونے کا امکان البانیہ: ملزم نے کیس کا فیصلہ سناتے ہی جج کو فائرنگ کرکے قتل کردیا کوئٹہ: رضاکارانہ واپسی کی مدت ختم، افغان مہاجرین کیخلاف کارروائیاں، 40 گرفتار ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 7 دہشت گرد ہلاک، ایک افسر شہید وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب کرلیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔