سی ٹی ڈی کی بنوں میں کارروائی، چار اہلکاروں کی شہادت میں ملوث انتہائی مطلوب دہشت گرد ساتھی سمیت ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) خیبر پختونخوا نے ضلع بنوں میں ایک کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران دو انتہائی مطلوب دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا ہے، جن میں سی ٹی ڈی کے چار اہلکاروں کی شہادت کا ماسٹر مائنڈ بھی شامل ہے۔
تفصیلات کے مطابق، سی ٹی ڈی نے کالعدم تنظیم (فتنہ الخوارج) سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد تھانہ ڈومیل کی حدود میں واقع کمپنی روڈ پر موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کارروائی کی۔
سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گرد ایک کارروائی کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، اطلاع پر سی ٹی ڈی کی خصوصی (SWAT) ٹیم نے ضلعی پولیس کے ہمراہ فوری طور پر علاقے کا گھیراؤ کیا۔
آپریشن ٹیم کو دیکھتے ہی دہشتگردوں نے فرار ہونے کی کوشش کی اور اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
سی ٹی ڈی اور پولیس کی جانب سے اپنی حفاظت اور دہشتگردوں کی گرفتاری کے لیے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی۔ سی ٹی ڈی ٹیم اور دہشت گردوں کے درمیان تقریباً 25 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
فائرنگ کا سلسلہ رکنے پر علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن کیا گیا تو دو دہشتگرد ہلاک پائے گئے۔ ان کی شناخت راشدین عرف ملنگ یار اور خالد عثمان عرف عثمان کے ناموں سے ہوئی، دونوں کا تعلق بنوں سے تھا۔
دہشتگردوں کے چند ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق راشدین عرف ملنگ یارنامی دہشتگرد 30 اپریل 2025 کو سی ٹی ڈی بنوں کی ٹیم پر ہونے والے حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا، حملے میں اے ایس آئی بنیامین خان سمیت چار اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا تھا۔
اس کے علاوہ ہلاک دہشت گرد پولیس پوسٹ برگنتو اور سپینہ تنگی پر حملوں میں بھی ملوث تھا، جن میں کانسٹیبل میر صالح خان نے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔
دوسرا دہشت گرد خالد عثمان عرف عثمان سال 2023 کے دوران سی ٹی ڈی اور ضلعی پولیس پر متعدد حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث تھا۔
ہلاک دہشت گرد نے نومبر 2023 میں پولیو پر تعینات کانسٹیبل امجد پر حملہ کر کے اس کو زخمی کیا تھا جبکہ اسی مہینے عبدالحمید حوالدار سی ٹی ڈی کو نشانہ بنا کر زخمی کیا تھا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے دو عدد کلاشنکوف، چھ میگزین، 23 راؤنڈز، دو ہینڈ گرینیڈ، دو موبائل فونز اور کالعدم ٹی ٹی پی کے دو کارڈز برآمد ہوئے ہیں۔
فرار ہونے والے دہشتگردوں کی گرفتاری کے لیے پولیس اور سی ٹی ڈی کی اضافی نفری نے علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی کے کے مطابق
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار