اسرائیلی کابینہ نے ٹرمپ پلان کے تحت جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
یروشلم:
اسرائیلی کابینہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ جنگ بندی منصوبے کے خدوخال کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت حماس کے زیر حراست تمام یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائی جائے گی۔
وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری مختصر بیان میں صرف یرغمالیوں کی رہائی کا ذکر کیا گیا، جبکہ معاہدے کے دیگر متنازع نکات کو بیان سے باہر رکھا گیا۔
یہ منظوری مشرق وسطیٰ میں دو سال سے جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
معاہدے کے تحت حماس کی جانب سے قیدیوں کی رہائی، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، رفح بارڈر کراسنگ کا کھولا جانا، اور انسانی امداد کی بحالی شامل ہے۔
ایک اعلیٰ حماس عہدیدار نے خطاب میں معاہدے کے بنیادی نکات واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل سنجیدگی دکھائے تو امن ممکن ہے۔ ادھر اسرائیلی حملے بھی جاری ہیں، جن کے باعث غزہ میں مزید ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے ایک اچانک حملے سے شروع ہوئی تھی، جس میں اسرائیل کے مطابق 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
اس حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ میں شدید فضائی اور زمینی کارروائیاں شروع کیں، جن کے نتیجے میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک 67,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 170,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔
جمعرات کی رات بھی غزہ میں اسرائیلی حملے جاری رہے۔ غزہ سٹی میں ایک رہائشی عمارت پر بمباری سے کم از کم دو افراد شہید اور 40 سے زائد ملبے تلے دب گئے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر جنگ بندی مذاکرات کو متاثر کرنے کے لیے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
تاہم اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ وہ صرف ان اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے جو اس کی افواج کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔