سوچے سمجھے منصوبے سے دہشتگردوں اور سہولتکاروں کو خیبرپختونخواہ میں جگہ دی گئی، ڈی جی ائی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
پشاور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 اکتوبر 2025ء ) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پریس کانفرنس کا مقصد صوبہ خیبرپختونخواہ میں سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا ہے، میں آج تجدید عہد کرنے آیا ہوں، میں ضروری سمجھتا ہوں کہ بتاؤں میرا پشاور آنے کا مقصد خیبرپختونخواہ کے غیور عوام کے درمیان بیٹھ کر دہشتگردی کی جنگ کا احاطہ کرنا ہے، خیبرپختونخواہ کے عوام کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی جڑ کو اُکھاڑ پھینکیں گے۔
پشاور میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو خیبرپختونخوا میں جگہ دی گئی، گورننس کو جان بوجھ کر کمزور کیا گیا، گمراہ کن بیانیہ بنایا گیا، دہشت گردی کے معاملے پر سیاست کی گئی، قوم کو الجھایا گیا، عوام اس کا خمیازہ خون سے دے رہے ہیں لیکن پاک فوج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، ہم سب کو مل کر دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ہے، رواں سال 917 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا ہے، اس دوران فورسز کے 516 جوان اور شہری شہید ہوئے ہیں۔(جاری ہے)
ڈی جی ائی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کیا ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہے؟ اگر ہر چیز کا حل بات چیت ہوتا تو دنیا میں جنگیں نہیں ہوتی ، جب 9 اور 10 مئی کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تب یہ کیوں نہیں کہا گیا کہ بھارت سے بات چیت کریں؟ ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو بدر کے میدان کو یاد کریں کہ سرور کونین ﷺ دو جہان جن کے لیے بنائے گئے، وہ ذات جس سے بڑھ کر کوئی انسان نہیں، کیوں نہیں اُس دن اُنہوں نے بات چیت کرلی؟ اُدھر تو باپ کے آگے بیٹا کھڑا تھا، بھائی کے آگے بھائی کھڑا تھا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بات چیت
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز