کوئٹہ میں نامعلوم 20 دہشت گردوں کی لاشیں امانتاً دفنا دی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات اور انسداد دہشت گردی آپریشنز کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 20 نامعلوم افراد کی لاشیں سول اسپتال کے مردہ خانے میں کئی دنوں تک پڑی رہنے کے بعد لاوارث قرار دیتے ہوئے امانتاً دفنا دی گئیں۔
ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق فلاحی تنظیم چھیپا فاؤنڈیشن نے ان لاشوں کو شرعی احکامات کے مطابق کوئٹہ شہر سے باہر ایک قبرستان میں امانتاً دفن کر دیا ہے اور قبروں پر ان افراد کے نام درج نہ ہونے کی وجہ سے صرف نمبر لکھے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ لاشیں ان مبینہ دہشت گردوں کی ہیں جو مختلف دہشت گردی کے واقعات میں سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے دوران مارے گئے تھے، ان میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے خودکش حملے، ضلع اغبرگ میں انسداد دہشت گردی آپریشن اور دیگر کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے افراد شامل ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ان نامعلوم لاشوں میں سے 4 لاشیں منگچر کے علاقے سے لائی گئی تھیں جو سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں مارے گئے تھے۔
سول اسپتال کوئٹہ کے ایک سینئر ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان افراد کی عمریں تقریباً 20 سے 35 سال کے درمیان تھیں۔
چھیپا فاؤنڈیشن کے اہلکار کا کہنا تھا کہ 20 لاشیں گزشتہ کئی ہفتوں سے مردہ خانے میں موجود تھیں اور اسپتال انتظامیہ کی درخواست پر انہیں دفنایا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
میکسیکو کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر پاؤلا مارکیز اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ پاؤلا مارکیز کی لاش 30 مئی کو ان کے گھر کے اندر سے اس وقت برآمد ہوئی جب ایک اہلِ خانہ نے انہیں بے ہوش حالت میں پایا۔ بعد ازاں طبی عملے نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
ابتدائی تحقیقات میں پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے جن میں خودکشی اور ممکنہ قتل دونوں امکانات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تمام شواہد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاؤلا مارکیز سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے زائد تھی۔ وہ زیادہ تر لائف اسٹائل، سفر اور پرتعیش زندگی سے متعلق مواد شیئر کرتی تھیں۔
ان کی ایک حالیہ ٹک ٹاک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق مایوس کن انداز میں گفتگو کی تھی۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو کچھ چاہا وہ مانگا، لیکن شاید الٹا مانگا، کیونکہ جو تھوڑا بہت میرے پاس تھا وہ بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘‘
افسوسناک خبر کے بعد ان کے والد ہیرکولیس مارکیز بالڈیرس نے فیس بک پر جذباتی پیغام میں اپنی بیٹی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ان کی ’’پیارا بیٹی پاؤلا اب اس دنیا میں نہیں رہی‘‘ اور وہ دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں بہترین مقام عطا کرے۔
والد کی پوسٹ پر صارفین کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ بھی جاری رہا، جہاں مداحوں اور قریبی افراد نے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور صبر کی دعا کی۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے تصدیق کی کہ پاؤلا مارکیز کی آخری رسومات یکم جون کو سان لوئیس پوٹوسی کے علاقے ہویچی ہوان میں ادا کی گئیں۔
پاؤلا مارکیز نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں دنیا بھر کے سفر، لگژری ٹرپس اور ایونٹس کی جھلکیاں شیئر کرکے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے انسٹاگرام بائیو میں درج ایک جملہ ’’انسٹاگرام اصل زندگی نہیں ہے‘‘ بھی ان کی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔