مسلم لیگ ن اور جے یوآئی نے وزیراعلیٰ کے پی کےکا انتخاب غیرآئینی قراردیدیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا انتخاب غیرآئینی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔
مسلم لیگ ن کے احسن اقبال، انجنئیر امیر مقام، اعظم نذیر تارڑ سمیت حکومتی وفد جےیو آئی سربراہ سے ملاقات کے لئے ان کی رہائش گاہ پہنچا اس موقع پر جے یو آئی کی جانب سے مولانا لطف الرحمان، علامہ راشد محمود سومرو، ایم پی اے سجاد خان اور مخدوم آفتاب شاہ شریک ہوئے۔
ملاقات میں خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اتفاق ہوا کہ خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی میں آج وزیراعلی ( لیڈر آف دی ہاؤس) کا انتخاب ایک غیر آئینی عمل تھا جسے قبول نہیں کیا جاسکتا، صوبائی اسمبلی کے حزب اختلاف کی تمام جماعتیں وزیراعلی کے انتخاب کے اس عمل کو مسترد کرتی ہیں۔
طے کیا گیا کہ اس سلسلے میں ہم چیف جسٹس اور ہائی کورٹ پشاور سے توقع رکھتے ہے کہ وہ اس متنازع پارلیمانی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے اور عدالتی رویوں کو اختیار کرتے ہوئے قانونی اور آئینی پہلوؤں سے صورت حال کا جائزہ لیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا کل مینار پاکستان جلسہ لٹک گیا، انتظامیہ نے اجازت نہیں دی
لاہور:پیپلز پارٹی لاہور کا 25 جولائی کو مینار پاکستان پر گرینڈ جلسے کا انعقاد کھٹائی میں پڑگیا، پولیس اور پی ایچ اے نے ضلع انتظامیہ کو منفی رپورٹ جمع کرادی، پولیس نے جلسے کے لیے پہنچی کرسیاں، جنریٹر اور ڈیکوریشن سے لدے ٹرک گیٹ پر روک دیے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پیپلز پارٹی نے کل 25 جولائی کو مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان کررکھا ہے جس میں صدر زرداری، بلاول اور آصفہ بھٹو کو شرکت کرنی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ آج پولیس نے جلسہ گاہ آئے سامان سے لدے ٹرک باہر ہی روک دیے، پولیس اور پی ایچ اے نے ضلعی انتظامیہ کو منفی رپورٹ جمع کرادی جس میں جلسے کی اجازت نہ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مینار پاکستان فیملیز کا تفریحی مقام ہے یہاں مناسب نہیں، جلسے سیکیورٹی خدشات ہیں۔ اسی طرح پی ایچ اے نے جلسے کے لیے زر ضمانت کے طور پر 60 لاکھ روپے مانگ لیے، جلسے کی اجازت کے لیے ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کا اجلاس تک نہیں بلایا، جلسے کی اجازت ڈی سی لاہور سے مشروط ہے۔ پی ایچ اے نے مینار پاکستان پارک متاثر ہونے کے پیش نظر جلسے کی اجازت نہ دینے کی تجویز دی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما درخواست گزار فیصل میر نے کہا تھا کہ جلسے میں صدر زرداری، بلاول اور آصفہ بھٹو شرکت کریں گے، 25جولائی کو رات 8 سے صبح 4 بجے تک جلسے کی اجازت دی جائے، جلسے میں پی پی کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
دوسری جانب سامان روکے جانے پر مینار پاکستان کے باہر میڈیا سے بات چیت میں فیصل میر نے کہا کہ لاہور کی انتظامیہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی طرف سے اجازت کے باوجود پیپلز پارٹی کے جلسے کو روکنے کا کوشش کر رہی ہے، اس وقت جلسے میں لے جانے والی کر سیوں، لائٹس، ساؤنڈ سسٹم اور دیگر سامان کو مینار پاکستان کے گیٹ پر روک لیا گیا ہے، پیپلز پارٹی تمام رکاوٹوں کے باوجود مینار پاکستان پر ہی کنوینشن منعقد کرے گی۔
فیصل میر نے کہا کہ اس وقت پولیس جلسہ گاہ میں کام کرنے والے ورکرز کے شناختی کارڈ اور فون نمبرز لے کر انہیں کام کرنے سے روک رہی ہے، لاہور کی انتظامیہ اپنے آپ وزیراعلی مریم نواز سے سے طاقتور ہونے کا تاثر دے رہی ہے، کل مجھے وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری صاحب نے خود کہا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی طرف سے آپ کو جلسے کی اجازت ہے، وزیراعلی پنجاب سے گزارش ہے کہ اپنے اختیارات استعمال کریں، وزیراعلی پنجاب فورا انتظامیہ کو ہدایت جاری کریں کہ پیپلز پارٹی کے کنوینشن میں رکاوٹیں کھڑی نہ کریں، پیپلز پارٹی کنونشن کرنے کے جمہوری حق سے کسی صورت میں دست بردار نہیں ہوگی۔