مسلم لیگ ن اور جے یوآئی نے وزیراعلیٰ کے پی کےکا انتخاب غیرآئینی قراردیدیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا انتخاب غیرآئینی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔
مسلم لیگ ن کے احسن اقبال، انجنئیر امیر مقام، اعظم نذیر تارڑ سمیت حکومتی وفد جےیو آئی سربراہ سے ملاقات کے لئے ان کی رہائش گاہ پہنچا اس موقع پر جے یو آئی کی جانب سے مولانا لطف الرحمان، علامہ راشد محمود سومرو، ایم پی اے سجاد خان اور مخدوم آفتاب شاہ شریک ہوئے۔
ملاقات میں خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اتفاق ہوا کہ خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی میں آج وزیراعلی ( لیڈر آف دی ہاؤس) کا انتخاب ایک غیر آئینی عمل تھا جسے قبول نہیں کیا جاسکتا، صوبائی اسمبلی کے حزب اختلاف کی تمام جماعتیں وزیراعلی کے انتخاب کے اس عمل کو مسترد کرتی ہیں۔
طے کیا گیا کہ اس سلسلے میں ہم چیف جسٹس اور ہائی کورٹ پشاور سے توقع رکھتے ہے کہ وہ اس متنازع پارلیمانی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے اور عدالتی رویوں کو اختیار کرتے ہوئے قانونی اور آئینی پہلوؤں سے صورت حال کا جائزہ لیں گے۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بی جے پی کامقبوضہ کشمیر کی یونیورسٹی میں مسلم طلبہ کے داخلے پر پابندی کا مطالبہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251129-08-3
سری نگر( مانیٹرنگ ڈیسک )بی جے پی کے مطالبے پر مقبوضہ کشمیر کی ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے داخلے پر پابندی عاید کرنے کا پر غور کیا جا رہا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی بی جے پی کی قیادت نے ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے داخلے پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔بی جے پی کے رہنماؤں نے یہ متنازع اور غیر آئینی مطالبہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو پیش کردہ ایک یادداشت میں کیا ہے۔خیال رہے کہ بی جے پی کا یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب یونیورسٹی کی 50 نشستوں میں سے 42 پر مسلمان امیدوار طلبا کامیاب ہوگئے ہیں۔بی جے پی رہنما سنیل شرما نے الزام لگایا کہ یونیورسٹی ہندو عقیدت مندوں کے چندے سے چلتی ہے اور داخلہ صرف انہی طلبا کو ملنا چاہیے جو ماتا سے عقیدت رکھتے ہوں۔دوسری جانب نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ملک بھر میں مذہبی ادارے تعلیمی مراکز چلاتے ہیں جہاں ہر مذہب کے طلبا پڑھتے ہیں، لہٰذا اس طرح کی پابندیاں ملک کو تقسیم کر دیں گی۔