Jasarat News:
2026-06-02@22:59:52 GMT

پاکستان کو نسلی تعصب ڈوبو رہا ہے

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کی تاریخ پر اگر غور کیا جائے تو یہ ’’دو نظریات‘‘ کی بنیاد پر بنا تھا لیکن اس کے مسلسل انحطاط کی وجہ نہ صرف اللہ سے کیے گئے وعدے سے انحراف ہے بلکہ سخت نسلی تعصب بھی ہے۔ برِصغیر میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کے سامنے جو وعدہ کیا تھا وہ یہی تھا ہم ایک ایسا خطہ زمین چاہتے ہیں جہاں اللہ اور اس کے رسول کے دین کو نافذ کریں گے، لیکن پاکستان بن جانے کے بعد ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے سے بھی کم وقت میں اس عہد سے انکار کر تے ہوئے پورے ملک میں اسی فرنگی نظام کو رائج کر دیا گیا تھا جس سے نجات کے لیے کم از کم ڈھائی سو برس سے مسلمانانِ ہند قربانیاں پیش کرتے آئے تھے اور 1940 کے بعد سے تو ان قربانیوں میں اتنا اضافہ ہو گیا تھا کہ 20 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو شہادتیں پیش کرنا پڑیں۔ جو عزتیں لٹیں، جائدادیں چھینی گئیں اور مالی نقصان ہوا اس کا تو کوئی حساب کتاب ہی نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان بن جانے کے اگلے ہی لمحے نسلی اور لسانی تعصبات نے جنم لینا شروع کر دیا تھا۔ پاکستان کی ساری مقتدر ہستیاں بجائے یہاں اپنے کیے گئے عہد پر قائم رہتیں، اپنے اپنے اندازِ فکر کو رائج کرنے میں لگ گئیں۔ سب سے پہلے تو اپنے کافرانہ نظریات کو پاکستان میں مروج کرنے کے لیے اپنی راہ سے ان ہستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا شروع کر دیا جن سے اس بات کا خطرہ تھا کہ وہ نظامِ کفر کی راہ میں ان کے لیے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

قائد ِ اعظم کی ہدایات کو سرے سے نہیں ماننا اور لیاقت علی خان کو بھرے جلسے میں گولی کا نشانہ بنانا اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے بجائے بکنگھم پیلس بنایا جائے گا۔ ان ہستیوں کے راستوں سے ہٹانے اور ایوب خان کے ماشل لا نافذ کرنے کے بعد اگر ان کی نظروں میں کوئی اور ہستی بڑی رکاوٹ ہو سکتی تھی تو وہ محترمہ فاطمہ جناح ہو سکتی تھیں۔ چنانچہ ایوب خان نے ان کو پاکستان کا غدار اور انڈین ایجنٹ کے نام سے اتنا مشہور کیا کہ پاکستان کے اس وقت کے دوسرے اور اِس وقت کے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں کتیوں کے گلوں میں فاطمہ جناح کے نام کی تختیاں تک لٹکوائی گئیں۔ مادر ملت یا قائد کی بہن کا احترام نہ بھی کیا جاتا تو شاید کتیوں کے گلوں میں ’’فاطمہ‘‘ نام کی تختیاں لٹکانا اتنا مکروہ فعل نہ ہوتا جتنا اْس ہستی کے نام کی تذلیل تھی جو آپؐ کی صاحب زادی کے نام کی ہوئی۔ یہ تھا اس نسلی تعصب کا آغاز جو پورے پاکستان میں اسلام کو نظریہ اسلام کو پس ِ پشت ڈال کر یہاں علاقائیت اور لسانیت کے زہر کو پھیلایا گیا۔

کراچی پر پاکستان کے ایک شمالی صوبے کے لوگوں سے باقائدہ حملے کرائے گئے اور وہ لوگ جن کی قربانیوں سے اس ملک نے جنم لیا تھا ان کو غداروں کی فہرست میں ڈال دیا گیا جس میں خود قائد ِ اعظم کی بہن کو سر فہرست رکھا گیا۔ نسلی، لسانی اور علاقائیت کا یہ سلسلہ رکا نہیں۔ پاکستان کی شمالی سرحدوں کی مستقل سرحدیں نہ بنانا اور کشمیر کی سرحد کو کنٹرول لائین کا نام دینا اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ پاکستان اور افغانستان میں آباد پختونوں اور بھارت کے کشمیریوں کو تو اپنا سمجھا جائے لیکن کھوکھراپار کا راستہ بند کرکے ہندوستان اور پاکستان میں مقیم خونی رشتوں کو غدار تصور کیا جائے، نسلی عصبیت نہیں ہے تو کیا ہے۔ سب سے پہلے بنگالی مسلمانوں کے خلاف طاقت کو استعمال کرکے اور سیاسی اور سماجی حقوق سے محروم کر کے ذہنی طور پر ان کو پاکستان کے خلاف بنا گیا اور پھر ان کو راہ راست پر لانے کے لیے گولی و گولہ بارود کے زور پر اپنا بنانے کی کوشش آخر کار ان کو پاکستان ہی سے دور لے گئی۔ ان سب کے باوجود تاریخ سے سبق حاصل کرنے کے بجائے پاکستان میں سندھی و مہاجر فسادات کو حکومتی سطح پر ابھارا گیا جس کا سلسلہ آج بھی اسی طرح جاری و ساری ہے۔ جنوبی وزیرستان کے آپریشنوں اور افغانستان کے خراب حالات کی وجہ سے جو گروہ بھی پاکستان میں داخل ہوئے ان کو کراچی کے چپے چپے پر لا کر بے ہنگم انداز میں بسا یا گیا اور شہر کا حلیہ بری طرح بگاڑا گیا۔ اْس وقت یہاں ایم کیو ایم کا توتی بولتا تھا، انہوں نے صرف اتنا کہا تھا کہ جو بھی یہاں آ رہے ہیں ہم صرف ان کو رجسٹرڈ کرنا چاہتے ہیں، تاکہ حساب رکھا جا سکے کہ یہاں کون کون اور کتنی تعداد میں آئے ہیں تو پورے پاکستان نے اس کو لسانیت کا رنگ دے کر سارے جنوبی وزیرستانیوں اور افغانیوں کو ایم کیو ایم کا نام دے کر اہل کراچی کا دشمن بنانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔

نسلی تعصب کی اس سے بڑی دلیل کیا ہوگی کہ پاکستان کے آئین میں وہ شق قانون کا حصہ بنادی گئی جس کی وجہ سے کراچی و حیدرآباد کے لوگ تیسرے کیا، دسویں درجے کے شہری بھی نہیں گنے جاتے جس کو کوٹا سسٹم کے نام سے تاریخ ہمیشہ ہمیشہ یاد رکھے گی۔

اب صرف پوچھنا یہ ہے کہ جن کی وفاداریاں آپ کے نزدیک قرآن و حدیث سے بڑھ کر تھیں، وہ پاکستان کے غداروں سے بھی زیادہ بڑھ کر غداری پر اترے ہوئے ہیں یا کھوکھراپار کی طرف سے پاکستان میں داخل ہونے والے۔ جب تک نسلی تعصب کا سلسلہ بند نہیں ہوگا اور اصل پاکستانیوں کے ساتھ متعصبانہ اور منفی رویہ ختم نہیں کیا جائے گا، اس وقت پاکستان کا پاکستان بننا، ایک رہنا اور اسلام کا قلعہ بننا ایک خواب کے سوا اور کچھ نہیں۔

حبیب الرحمن.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان میں کو پاکستان کہ پاکستان پاکستان کے نسلی تعصب کے لیے تھا کہ کے نام نام کی

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف