افغان طالبان کی پھر بلا اشتعال فائرنگ ،پاک فوج کا بھرپورجواب ،متعددپوسٹیں اورٹینک تباہ، کمانڈرہلاک
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کرم (مانیٹرنگ ڈیسک )خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج نے بلااشتعال فائرنگ کی جب کہ پاک فوج کے بھرپور جواب پر اپنی پوسٹ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔جوابی کارروائی میں ایک کمانڈر کی ہلاکت اور ایک گھنٹے میں ٹینک اورمتعدد پوزیشنز تباہ ہوگئی ہیں۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق کرم میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج نے بلا اشتعال فائرنگ کی۔پاک فوج نے بھرپور جواب دیا جس کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاک فوج کی فائرنگ کی وجہ سے طالبان پوسٹوں کا شدید نقصان ہوا اور افغان طالبان کی پوسٹوں پر آگ بھڑک اٹھی۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں طالبان کا ٹینک اور ایک گھنٹے کے اندر 4 ٹینک پوزیشن (چوکیاں) بھی تباہ ہوا جب کہ افغان طالبان اور خوارج فرار ہوگئے۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ طالبان اپنی متعدد لاشیں تباہ شدہ پوسٹ پر چھوڑ کر فرار ہوگئے جب کہ جوابی کارروائی میں ایک کمانڈر ہلاک ہوا ہے۔بعد ازاں سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاک فوج نے کرم سیکٹر میں ایک اور کارروائی کی جہاں انتہائی مہارت اور پیشہ ورانہ کارروائی کے دوران طالبان کے چلتے ٹینک کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغان طالبان کہ پاک فوج
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔