بلوچستان میں افغان مہاجرین کے 10 کیمپ مکمل طور پر بند کر دیئے گئے
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
بند کئے جانے والے کیمپوں میں سے ایک کوئٹہ، 2 پشین، 3 لورالائی، 3 چاغی جبکہ ایک قلعہ سیف اللہ میں واقع تھا، ان کیمپس میں مجموعی طور پر 85 ہزار مہاجرین مقیم تھے جنہیں اب واپس بجھوا دیا گیا ہے اسلام ٹائمز۔ بلوچستان میں افغان مہاجرین کے 10 کیمپوں کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور ان کیمپوں میں مقیم 85 ہزار افغانوں کو واپس بجھوایا دیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ بلوچستان میں افغان مہاجرین کے 10 کیمپس مکمل طور پر بند کردیے گئے ہیں۔ بند کئے جانے والے کیمپوں میں سے ایک کوئٹہ، 2 پشین، 3 لورالائی، 3 چاغی جبکہ ایک قلعہ سیف اللہ میں واقع تھا، ان کیمپس میں مجموعی طور پر 85 ہزار مہاجرین مقیم تھے جنہیں اب واپس بجھوا دیا گیا ہے، صوبے میں مجموعی طور پر 5 لاکھ کے قریب مہاجرین کو کمشنریٹ میں رجسٹرڈ کیا گیا تھا۔دوسری جانب کوئٹہ میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ بھی جاری ہے اور گزشتہ روز شہر سے غیر قانونی طور پر مقیم 3 ہزار 888 مہاجرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں افغان مہاجرین کے دیا گیا ہے
پڑھیں:
طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف صوبوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف گروہوں نے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں متعدد کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جس سے بعض علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق ’فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے کمانڈر حامد سیفی کی قیادت میں جنگجوؤں نے 20 جولائی کو صوبہ کاپیسا کے ضلع کوہستان میں مختلف شاہراہوں پر چیک پوسٹیں قائم کیں اور اہم راستوں پر نقل و حرکت کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں پرتشدد واقعات، سابق انٹیلیجنس افسر اور قبائلی عمائدین الگ الگ حملوں میں قتل
ادھر صوبہ بدخشاں کے ضلع یفتل میں حالیہ مزاحمتی کارروائی کے بعد ضلع زیبک سے بھی طالبان مخالف حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ٹاپ خانہ کے علاقے میں طالبان کی چیک پوسٹوں کے قریب شدید جھڑپیں جاری ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق لڑائی قریبی علاقوں تک پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل ’سپاہیانِ میہن‘ نامی گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے یفتل میں ضلعی انتظامیہ، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفاتر پر قبضہ کرکے طالبان کا پرچم اتار دیا، اسلحہ، فوجی گاڑیاں اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں طالبان کی اضافی نفری پہنچنے پر علاقے کا دوبارہ کنٹرول طالبان کے ہاتھ میں آنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
تازہ رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ بدخشاں طالبان حکومت کے لیے ایک اہم دباؤ والے علاقے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں بار بار ہونے والی مزاحمتی کارروائیاں طالبان کی سیکیورٹی حکمت عملی اور صوبے پر گرفت کو چیلنج کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف سرگرمیاں اب صرف پنج شیر اور اندراب تک محدود نہیں رہیں بلکہ کابل، بغلان، تخار، قندوز، کاپیسا، بلخ، ہرات اور بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں بھی مختلف مزاحمتی گروہوں نے کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح مزاحمت کا دائرہ بتدریج وسیع ہو رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان بدخشاں طالبان فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ