میڈیکل کالجز زیادہ فیس لے رہے ہیں‘ صدر پی ایم ڈی سی کااعتراف
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251021-08-25
اسلا آباد(نمائندہ جسارت) صدر پی ایم اینڈ ڈی سی ڈاکٹر رضوان تاج نے اعتراف کیا ہے کہ میڈیکل کالجز زیادہ فیس لے رہے ہیں، نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں میں خود سے اضافے کو سنجیدہ لے رہے ہیں۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا ڈاکٹر مہیش کمار کی زیر صدارت اجلاس ہوا، وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال، سیکرٹری صحت، ڈی جی، ارکان کمیٹی اور وزارت صحت کے حکام شریک ہوئے۔اجلاس میں ڈاکٹر شاذیہ سومرو نے نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں میں اضافے کا معاملہ اٹھادیا۔ ڈاکٹر شازیہ سومرو نے کہا کہ 26 اکتوبر کو ایم ڈی کیٹ کا ٹیسٹ ہوگا، ایک امیداوار کا شناختی کارڈ، نمبر تبدیل ہے، چیئرمین نے کہا کہ فیس 18 لاکھ سے 24 لاکھ روپے ہے، زیادہ فیس کیوں لے رہے ہیں، جواب دیں۔ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں میں خود سے اضافہ کو سنجیدہ لے رکھا ہے۔صدر پی ایم اینڈ ڈی سی نے اعتراف کیا کہ میڈیکل کالجز زیادہ فیس لے رہے ہیں،12 شوکاز نوٹسز جاری کردیے ہیں، جرمانہ، رجسٹریشن منسوخی ہوسکتی ہے، فہرست جلد کمیٹی کو بھجوادیں گے، کالجز سے جواز مانگ رہے ہیں،معاملہ کمیٹی کو دیں گے۔وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ اسلام آبار میں سروے کرالیں اندازہ ہوجائے گا کہ قیمتیں کیوں بڑھی، میڈیکل کالجز 18 لاکھ سے 25 لاکھ روپے تک فیس وصول کرسکتے ہیں، قانون میں فیس بڑھانے کی گنجائش ضرور ہے تاہم جواز دینا ہوگا۔چئیرمین کمیٹی مہیش کمال نے کہا کہ فیس تو 30 لاکھ اور 40 لاکھ وصول کرنے کی بھی شکایات ہیں۔وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 188 میں سے 122 میڈیکل کالجز پرائیویٹ ہیں،ہم ملک گیر سروے کرائیں گے، اسلام آباد کے تمام میڈیکل کالجز کو نوٹسز بھیجے ہیں، 14 میڈیکل کالجز کو نوٹس جاری کیے۔نئے رجسٹرار پی ایم اینڈ ڈی سی ڈاکٹر ریحان نقوی نے کالجز کے نام کمیٹی میں پیش کردیے، رجسٹرار پی ایم اینڈ ڈی سی نے کہا کہ 14 میڈیکل کالجز کو فیس کی حد کی پابندی کرنا ہوگی۔ڈاکٹر ریحان نقوی نے کہا کہ ہم ذمے دار میڈیکل کالجز کو جرمانوں سمیت تادیبی کارروائی کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ایم اینڈ ڈی سی میڈیکل کالجز کو لے رہے ہیں زیادہ فیس نے کہا کہ
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔