ٹک ٹاک نے پاکستان میں کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر کروڑوں ویڈیوز حذف کردیں
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے رواں سال 2025 کی دوسری سہہ ماہی کے دوران پاکستان میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 54 لاکھ 48 ہزار 992 ویڈیوز کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر حذف کردی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاک کی جانب سے پاکستان میں فعال انداز میں کانٹینٹ ہٹانے کی شرح 99.7 فیصد رہی ہے جبکہ حذف شدہ ویڈیوز میں سے 96.
اس حوالے سے ٹک ٹاک نے رواں سال کی پہلی سہہ ماہی کے لیے کمیونٹی گائیڈ لائنز انفورسمنٹ رپورٹ جاری کر دی ہے جو صارفین کیلئے محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی فراہمی کے سلسلے میں ٹک ٹاک کے مسلسل عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
اپریل سے جون 2025 کے درمیانی عرصے کے اعداد و شمار پرمشتمل یہ رپورٹ ان فعال اقدامات کی تفصیل فراہم کرتی ہے جو ٹک ٹاک نے اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرنے والے کانٹینٹ کی نشاندہی اور اسے حذف کرنے کے لیے اختیار کئے تاکہ اپنی عالمی کمیونٹی کے لیے مثبت تجربہ یقینی بنایا جاسکے۔
ٹک ٹاک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق 2025 کی دوسری سہ ماہی کے دوران عالمی سطح پر ٹک ٹاک نے مجموعی طور پر 189 ملین ویڈیوز حذف کیں جو پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کئے گئے، کُل کانٹینٹ کا تقریباً 0.7 فیصد بنتی ہیں۔
حذف کی گئی ویڈیوز میں سے 16 کروڑ 39 لاکھ 62 ہزار دو سو اکیالیس ویڈیوز خودکار ٹیکنالوجیز کی نشاندہی پر حذف کی گئیں جبکہ 74 لاکھ 57 ہزار 309 ویڈیوز مزید جائزے کے بعد دوبارہ بحال کر دی گئی ہیں۔
فعال انداز میں کانٹینٹ کوحذف کرنے کی شرح 99.1 فیصد رہی اور ان میں 94.4 فیصد نشان زدہ کانٹینٹ کو پوسٹ کئے جانے کے 24 گھنٹوں کے اندر حذف کر دیا گیا ہے۔ ٹک ٹاک کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے اس سہ ماہی میں پلیٹ فارم نے سات کروڑ76 لاکھ اکیانوے ہزار چھ سو ساٹھ جعلی اکاؤنٹس حذف کیے اور مزید 2 کروڑ اُنسٹھ لاکھ چار ہزار سات سو آٹھ ایسے اکاؤنٹس بھی حذف کیے گئے جن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ 13 سال سے کم عمر صارفین کے تھے۔
2025کی پہلی سہ ماہی کی تفصیلی رپورٹ جاننے اور ٹک ٹاک کی کانٹینٹ سے متعلق گائیڈ لائنز، ٹولز اور پالیسیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے ٹک ٹاک کیٹرانسپیرنسی سینٹرکا وزٹ کیجیے جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں دستیاب ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاک نے ٹک ٹاک کی کے لیے
پڑھیں:
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیےیہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔
(جاری ہے)
انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔
نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثریہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔
دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔
نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعملامریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔
برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔
آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔
جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔
دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملیدریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔
امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔
ادارت: مقبول ملک