اسلام آباد میں فوری بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ معطل‘ پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کا نوٹیفکیشن بحال
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں 4 ماہ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کردیا، اسلام آباد میں پراپرٹی ٹیکس میں اضافے اور بعض نئے علاقوں میں پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ سے متعلق میونسپل کارپوریشن اسلام آباد کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کا سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے نوٹیفکیشن بحال کردیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس راجا انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جسٹس محسن اختر کیانی کے سنگل بینچ کے فیصلے کیخلاف میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔ ایم سی آئی کے وکیل کاشف ملک ایڈووکیٹ کے ذریعے وفاقی دارالحکومت میں پراپرٹی ٹیکس سے متعلق سنگل بینچ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سنگل بینچ نے اسلام آباد میں پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کے خلاف منیر چودھری اور احمد حسن رانا کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے پراپرٹی ٹیکس میں اضافے اور بعض نئے علاقوں میں پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ سے متعلق میٹروپولیٹن کارپوریشن کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دے دیا تھا۔ درخواست گزاروں نے میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی جانب سے 23 جنوری 2024ء کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا۔ ایم سی آئی کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ 23 جنوری 2024ء کا نوٹیفکیشن گزٹ میں شائع نہیں ہوا، وہ محض ڈرافٹ نوٹیفکیشن تھا۔ سنگل بینچ نے اپنے فیصلے میں 120 روز میں اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کرانے کی ہدایت بھی کی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے ایم سی آئی کی انٹرا کورٹ اپیل پر پراپرٹی ٹیکس میں اضافے سے متعلق ایم سی آئی کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دینے اور بلدیاتی انتخابات 4 ماہ میں کروانے کا سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اور سماعت ملتوی کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پراپرٹی ٹیکس میں اضافے بلدیاتی انتخابات میں پراپرٹی ٹیکس کا فیصلہ معطل اسلام ا باد ایم سی ا ئی کرتے ہوئے سنگل بینچ
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔