data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈی ڈبلیو پی گروپ نے سال 2025میں اپنے انٹرن شپ پروگرام “تعمیر مستقبل “کی کامیاب تکمیل پر گریجویشن کی ایک پروقار تقریب لاہور میں منعقد کی، جس میں کمپنی کے ٹیکنالوجی ڈویژن سے تعلق رکھنے والے سات باصلاحیت انٹرنز کی کامیابی کو سراہا گیا۔

یہ تقریب ڈی ڈبلیو پی گروپ کے اس عزم کو اجاگر کرتی ہے جس کے تحت ادارہ پاکستان کے نوجوانوں کو جدید مہارتیں، رہنمائی، اور کارپوریٹ ماحول کا عملی تجربہ فراہم کرکے انہیں مستقبل کے پیشہ ورانہ چیلنجز کے لیے تیار کرتا ہے

اس موقع پر ڈی ڈبلیو پی گروپ کے مختلف شعبوں کے سربراہان نے شرکت کی، جن میں ڈی ڈبلیو پی گروپ کے ڈائریکٹر طحہٰ محمد نسیم، ڈی ڈبلیو پی ٹیکنالوجیز کے چیف آپریٹنگ آفیسر روحیل بصیر، گروپ کے جنرل مینیجر سیلز نعیم بشیر، صباح الدین رانا، ہیڈ آف مارکیٹنگ شعیب یونس، اور ہیڈ آف ہیومن ریسورسز شکیلہ قریشی شامل تھے۔

اس موقع پر ڈی ڈبلیو پی گروپ کے ڈائریکٹر طحہٰ محمد نسیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”ڈی ڈبلیو پی گروپ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں کی ترقی سے جڑا ہے جہاں انہیں موزوں مہارتیں اور مواقع دستیاب ہوں۔

تعمیر مستقبل پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو کاروباری دنیا کا حقیقی تجربہ، رہنمائی اور جدت کا پلیٹ فارم فراہم کرکے تعلیمی اداروں اور انڈسٹری کے درمیان موجود خلا کو بھرنا ہے۔ ہمارے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ ہم نے ان نوجوانوں کو بااعتماد پروفیشنلز میں بدلتے ہوئے دیکھا۔”

ڈی ڈبلیو پی ٹیکنالوجیز کے چیف آپریٹنگ آفیسر، روحیل بصیر نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ”ٰاس پروگرام کا وژن ایسے پروفیشنلز تیار کرنا ہے جو تخلیقی سوچ اور واضح مقصد کے ساتھ قیادت کر سکیں۔

انٹرن شپ کرنے والے ہر نوجوان نے اس پروگرام کے دوران غیر معمولی صلاحیت، عزم اور جذبے کا عملی مظاہرہ پیش کیا ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ یہ نوجوان ڈی ڈبلیو پی کی جدت اور بہترین کارکردگی پر مبنی اقدار کو اپنے مستقبل کے سفر میں آگے بڑھائیں گے۔”

اس پروگرام کے ذریعے ڈی ڈبلیو پی گروپ نوجوانوں کو مختلف شعبہ جات کا عملی تجربہ، جدید تربیت اور انڈسٹری ماہرین سے براہِ راست رہنمائی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان پر سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔

اس پروگرام کے دوران ہفتہ وار لرننگ لیب، رئیل ٹائم پروجیکٹس اور ”انٹرن ڈائریز” جیسی سرگرمیاں شامل ہیں جو سیکھنے کے عمل کو جامع اور متوازن بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں جدید پیشہ ورانہ دنیا کے چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرتی ہیں۔

سال2025 میں اس بیج کی گریجویشن نہ صرف ایک انٹرن شپ پروگرام کے کامیابی سے اختتام کو اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ ان نوجوانوں کے روشن مستقبل کی شروعات بھی ہے جو جذبے، سیکھنے اور پاکستان کی ترقی کے مشترکہ عزم سے ہم آہنگ ہیں۔

منیر عقیل انصاری.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نوجوانوں کو اس پروگرام پروگرام کے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان