وفاقی کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
وفاقی کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دیدی WhatsAppFacebookTwitter 0 23 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)پر پابندی کی منظوری دے دی ۔وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دی گئی۔ذرائع کے مطابق کابینہ نے ضابطے کی کارروائی کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو احکامات جاری کردیے ہیں۔
خیال رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے ایک ہفتہ قبل ٹی ایل پی پر پابندی کا ریفرنس وزارت داخلہ کو بھیجا گیا تھا۔آج ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں میں وزارت داخلہ نے سمری کابینہ کو بھجوائی جس میں ٹی ایل پی پر پابندی انسداد دہشت گردی ایکٹ کی سیکشن الیون بی ون کے تحت تجویز کی گئی۔سمری میں کہا گیا کہ ٹی ایل پی پر نفرت انگیز تقاریر کرنے پر پابندی عائد کی جائے، ٹی ایل پی فرقہ وارانہ انتہاپسندی اور تشدد میں ملوث ہے، ٹی ایل پی بین الاقوامی تعلقات خراب کرنے کا باعث بنی۔
چارج شیٹ میں کہا گیا کہ ٹی ایل پی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں ملوث ہے، ٹی ایل پی ہجوم کے تشدد میں ملوث ہے، ٹی ایل پی نے نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، ٹی ایل پی ہتھیار سازی میں ملوث ہے، ٹی ایل پی نے محرم میں شیخوپورہ اور میانوالی میں فرقہ وارانہ تشدد کیا، 70 لوگ زخمی اور 5جاں بحق ہوئے۔چارج شیٹ کے مطابق ٹی ایل پی کے حالیہ مظاہروں میں 6 افراد زخمی ہوئے ، ایک پولیس اہلکار شہید ہوا، ٹی ایل پی مظاہروں میں 47پولیس اہلکار زخمی ہوئے، بعض اہلکار عمر بھر کے لیے معذور ہوگئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد پولیس کے ایس پی عدیل اکبر نے مبینہ خودکشی کرلی اسلام آباد پولیس کے ایس پی عدیل اکبر نے مبینہ خودکشی کرلی چیئرمین سی ڈی اے سے یانگو سروسز کی کنٹری ہیڈ مرال شریف کی قیادت میں وفد کی ملاقات سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عمران خان سے ملاقاتوں کیلئے سلمان اکرم کی فہرست پر عمل درآمد کا حکم نیب کی سال 2025کی تیسری سہ ماہی میں 11کھرب روپے سے زائد کی بازیابی ائیر چیف مارشل کا رومانیہ کا سرکاری دورہ، دفاعی تعاون کے فروغ پر اتفاق اپنی چھت اپنا گھر منصوبے سے عام آدمی کو ریاست ماں جیسی ہونے کا حقیقی احساس ہوا، مریم نوازCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری وفاقی کابینہ میں ملوث ہے کابینہ نے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔