کشمیر ارکین اسمبلی کا ایم ایل اے معراج ملک کی رہائی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
جموں و کشمیر کے سابق مرحوم گورنر ستیہ پال ملک ان چھ قانون سازوں میں شامل تھے جنہیں اسمبلی میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر میں حکمراں پارٹی کے قانون سازوں نے آج ڈوڈہ سے عام آدمی پارٹی کے جیل میں بند ایم ایل اے معراج ملک کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ نیشنل کانفرنس کے ایم ایل ایز نے جموں و کشمیر اسمبلی کے باہر خاموش احتجاج کیا اور پلے کارڈ تھامے ہوئے تھے جن پر فری مہراج ملک لکھا تھا۔ معراج ملک کو ستمبر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ڈوڈہ ایڈمنسٹریٹر اور ڈپٹی کمشنر کے خلاف ہیلتھ سنٹر کی منتقلی کے لئے متنازعہ بیان دینے پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔ جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس آج سرینگر میں شروع ہو رہا ہے۔ یہ نو دنوں کا مختصر سیشن ہوگا جس میں چھ نشستیں ہوں گی۔ آج پہلے دن کا آغاز سابق ارکان اسمبلی اور وزراء کی تعزیت کے ساتھ ہوا جو ایوان کے آخری اجلاس کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ جموں و کشمیر کے سابق مرحوم گورنر ستیہ پال ملک ان چھ قانون سازوں میں شامل تھے جنہیں اسمبلی میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ جیسے ہی سیشن شروع ہوا، حکمراں جماعت کے ایم ایل اے ہلال اکبر لون نے مہراج ملک کے پی ایس اے کا مسئلہ اٹھایا، لیکن اسپیکر نے ان سے کہا کہ پہلے ایوان کو اختتامی تعزیت کی ادائیگی کی اجازت دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایم ایل
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔