پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ آج ترکیہ کے شہر استنبول میں ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان طالبان رجیم سے مذاکرات ضرور کرے مگر بارڈر پر بھی نظر رکھے، اعزاز احمد چوہدری

پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے دوحہ مذاکرات میں پاکستان وفد کی قیادت کی تھی۔ انہوں نے 19 اکتوبر کو استنبول میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے بارے میں ایکس پر ایک پیغام کے ذریعے سے آگاہ کیا تھا۔

افغانستان کے ساتھ جنگ بندی معاہدے میں کہا گیا تھا کہ دوسرے مرحلے میں دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں دہشتگردی کو مانیٹر کرنے کے لیے میکنزم پر بات کی جائے گی۔

ان مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہو گا، پاکستان کی جانب سے کون کون اِس میں شریک ہو گا، وفد کی قیادت کون کرے گا آج ترجمان دفترِخارجہ طاہر اندرابی کے سامنے جب یہ سوالات رکھے گئے تو اِس بارے میں اُنہوں نے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’استنبول میں ہونے والے مذاکرات دوحہ مذاکرات کا تسلسل ہیں جن کا مقصد افغان سرزمین سے پاکستان پر حملوں کو روکنا تھا اور ایک میکنزم جس کے ذریعے مانیٹرنگ کی جا سکے۔ پاک افغان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ قائم ہے اور تب سے کوئی حملہ پاکستان میں نہیں ہوا‘۔

https://x.

com/KhawajaMAsif/status/1979683548555546996

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اپنی پوری ایمانداری کے ساتھ استنبول مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں۔ استنبول میں پاکستانی وفد کی سربراہی کون کرے گا اس سے آگاہ نہیں تاہم پاکستان پوری ایمانداری سے افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنے کے لے کوشش کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس وقت ہم افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں ہیں اس لیے بہت محتاط الفاظ استعمال کروں گا۔ ہم افغانستان سے صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو‘۔

کیا افغان حکومت امن کی خواہش رکھتی ہے؟

افغان طالبان رجیم کے سپوکس پرسن ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹ کیا تھا کہ دوحہ معاہدے کے بعد فالو اپ مذاکرات میں جنگ بندی معاہدہ برقرار رکھنے اور اِس کی تصدیق کے لیے قابلِ بھروسہ اور قابلِ تصدیق نظام تشکیل دینے پر بات کی جائے گی۔

مزید پڑھیے: افغان طالبان اور ٹی ٹی پی ایک ہیں، ہارون رشید

افغان وزارتِ خارجہ سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنے پیغامات میں پاکستان کو کشیدگی کا ذمّے دار کہتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ جنگ بندی معاہدے کے بارے میں دوسرے ممالک کے خیرمقدمی بیانات کا ذِکر بھی ملتا ہے۔

23 اکتوبر کو افغان طالبان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے برطانیہ کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان رچرڈ لنڈسے سے وزیر مہاجرین مولوی عبدالکبیر کی ملاقات کے بارے میں ایکس پر لکھا کہ برطانوی نمائندے نے پاک افغان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اِسے مستقبل جنگ بندی میں بدلنے پر زور دیا۔

اِسی طرح افغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر ایک پیغام میں افغان وزارت خارجہ کے اہلکار ڈاکٹر محمد نعیم اور چینی حکومت کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان یو ژیاؤنگ کے درمیان 23 اکتوبر کو ہونے والی ملاقات کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ چینی نمائندہ خصوصی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کوششوں کو جاری رکھنے پر بات کی۔

مستقل جنگ بندی ممکن دوست ممالک کو کردار ادا کرنا پڑے گا، ایمبیسیڈر جاوید حفیظ

پاکستان کے سابق سفارتکار ایمبیسیڈر جاوید حفیظ نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان مذاکرات کا مستقبل کیا ہو گا اِس کے لیے مستقبل بینی کرنا پڑے گی کیونکہ ابھی مذاکرات کا ایک مرحلہ دوحہ میں مکمل ہوا ہے جس میں اچھے فیصلے ہوئے ہیں۔ جنگ بندی اور سرحد پار دہشتگردی روکنے کے ساتھ ساتھ اِس معاہدے میں یہ کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک سفارتکاری کے ذریعے سے مسئلے کو حل کریں گے۔ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ آج استنبول میں ہو گا تو دیکھتے ہیں اُس کے نتائج کیا سامنے آتے ہیں۔

استنبول مذاکرات میں دہشتگرد کاروائیوں کی مانیٹرنگ کا کیا طریقہ کار ہو سکتا ہے؟

اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایمبیسیڈر جاوید حفیظ نے کہا کہ فوجی اعتبار سے دیکھا جائے تو ممکنہ طور پر طرفین کی فوجیں مشترکہ طور پر سرحد کی نگرانی پر اِتّفاق کر سکتی ہیں جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد بہت طویل اور دشوار گزار ہے لیکن اس کے باوجود مرکزی داخلی راستے دونوں اطراف کی جانب سے مشترکہ طور پر حفاظت کیے جا سکتے ہیں اور ٹی ٹی پی کی کاروائیوں پر روک لگائی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک فوج کی مہمند میں کارروائی: افغان طالبان کی الخوارج کی تشکیل کی کوش ناکام، ٹی ٹی پی کے 30 دہشتگرد ہلاک

اِس کے علاوہ فوجی کمانڈرز کے درمیان انسدادِ دہشتگردی کے لیے ممکنہ طور پر ہاٹ لائن کمیونیکیشن قائم کی جا سکتی ہے تا کہ کسی بھی قسم کی دراندازی اور دہشتگرد کارروائی سے طرفین ایک دوسرے کو آگاہ کر سکیں۔ اِس کے علاوہ وزرائے خارجہ کے درمیان بھی ہاٹ لائن قائم کی جا سکتی ہے۔

کیا افغان سائیڈ امن کی خواہش رکھتی ہے؟

اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر جاوید حفیظ نے کہا کہ پچھلے 4 سال جس طرح سے ہمارا افغان طالبان رجیم کے ساتھ تعلق رہا، اس سے اُمید کم ہی رکھی جا سکتی ہے لیکن اس بار ہم دیکھتے ہیں کہ افغان طالبان رجیم نے جو وعدے کیے ہیں کیا وہ اُن پر عمل کرتے ہیں۔ اُنہوں نے امن کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور ہمیں اِس پر شکوک و شبہات کا اظہار نہیں کرنا چاہییے۔

غیر مُلکی عناصر جنگ بندی معاہدے کے خلاف روبہ عمل ہو سکتے ہیں؟

ایمبیسیڈر جاوید حفیظ نے کہا کہ غیر مُلکی عناصر پاک افغان جنگ بندی معاہدے کے خلاف کام کر سکتے ہیں اور اِسے ختم کرانے کی کوشش کر سکتے ہیں جن میں سب سے پہلے ہمارا مشرقی ہمسایہ بھارت ہے جو اِس معاہدے کو ختم کرانے کی کوشش کرے گا۔ کیونکہ بھارت نہ صرف افغان طالبان بلکہ دہشتگردی کے لیے ٹی ٹی پی سے بھی براہِ راست رابطے کرتا ہے۔

کیا چین قیام امن میں کردار ادا کر سکتا ہے؟

ایمبیسیڈر جاوید حفیظ نے کہا کہ چین اپنی سرمایہ کاری کے ذریعے ایک بڑا اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور دوسری بات یہ کہ چین اور پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے سے یکساں مؤقف و مفاد رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین سمجھتا ہے کہ دہشتگرد گروہ سنکیانگ صوبے میں دہشتگرد کاروائیاں کر سکتے ہیں جبکہ پاکستان کو بھی سرحد پار دہشتگردی سے خطرات لاحق ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان سے لڑائی افغان طالبان کی تنہائی میں اضافہ

ان کا کہنا تھا کہ چین طالبان رجیم کے ساتھ بات چیت کے ذریعے سے اُنہیں ایسی کاروائیوں سے اجتناب پر قائل کر سکتا ہے اور اُنہیں یہ بتا سکتا ہے کہ امن کی صورت میں افغانستان سی پیک میں شامل ہو کر فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔

خلیجی ممالک کس طرح سے کردار ادا کر سکتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر جاوید حفیظ نے کہا کہ خلیجی ممالک اور خاص طور پر سعودی عرب قیامِ امن کے سلسلے میں خصوصی کردار ادا کر سکتا ہے کیوںکہ سعودی عرب میں مقدّس مقامات کی وجہ سے پوری اسلامی دنیا اُنہیں احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قطر اور دیگر خلیجی ممالک بھی اِس معاملے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغان طالبان پاک افغانستان کشیدگی پاکستان افغان طالبان رجیم مذاکرات پاکستان افغانستان مذاکرات

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغان طالبان پاک افغانستان کشیدگی پاکستان افغان طالبان رجیم مذاکرات پاکستان افغانستان مذاکرات افغان طالبان رجیم کے جنگ بندی معاہدے افغانستان کے استنبول میں مذاکرات میں کے بارے میں کر سکتے ہیں مذاکرات کا کر سکتا ہے جا سکتی ہے پاک افغان معاہدے کے کے درمیان انہوں نے کے ذریعے ٹی ٹی پی ایکس پر کے ساتھ کے لیے ہے اور میں ہو امن کی کہ چین

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ

پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقات

اٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع

دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہ

سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔

پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورک

پاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔

اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیں

رپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاری

ملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی