عمران خان کےایکس اکاونٹ کو بند کرنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
درخواست گزار شہری غلام مرتضیٰ نے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ کے ذریعے درخواست دائر رکھی ہے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ٹوئٹس ہٹانے اور بلاک کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ دوران قید ایکس اکائونٹ سے مبینہ انتشاری پوسٹس ہٹانے اور پھیلانے سے روکنے کی استدعا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ایکس اکاونٹ کو بند کرنے کی درخواست 4 نومبر کو سماعت کیلئے مقرر کر دی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے کاز لسٹ جاری کر دی ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر 4 نومبر کو سماعت کریں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر رکھا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم ایجنسی، سپرٹنٹنڈنٹ جیل سمیت دیگر فریقین سے بھی عدالت نے جواب طلب کر رکھا ہے۔ درخواست گزار شہری غلام مرتضیٰ نے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ کے ذریعے درخواست دائر رکھی ہے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ٹوئٹس ہٹانے اور بلاک کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ دوران قید ایکس اکائونٹ سے مبینہ انتشاری پوسٹس ہٹانے اور پھیلانے سے روکنے کی استدعا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی عمران خان کی استدعا ہٹانے اور کرنے کی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔