مصر میں جلا وطن کیے گئے فلسطینیوں کی آبادکاری کیلئے پاکستان بھی آپشن میں شامل WhatsAppFacebookTwitter 0 25 October, 2025 سب نیوز

مصر میں جلاوطن کیے گئے فلسطینی قیدیوں کو آباد کرنے کے لیے جن ممالک پر غور کیا جا رہا ہے، ان قطر، ترکی اور ملائیشیا کے علاوہ پاکستان بھی شامل ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ثالثی سے ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد، جو 10 اکتوبر سے نافذ العمل ہے، حماس نے تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کے بدلے تمام 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا تھا۔
ان میں سے زیادہ تر قیدی غزہ اور مغربی کنارے واپس چلے گئے، تاہم 154 فلسطینی سابق قیدیوں کو جلاوطن کر کے بسوں کے ذریعے مصر بھیج دیا گیا، جہاں حکام نے انہیں ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں رکھا ہوا ہے جہاں سے وہ اجازت کے بغیر باہر نہیں نکل سکے۔
یاد رہے کہ مصر کے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات ہیں اور اس نے قیدیوں کے تبادلے میں کلیدی ثالثی کردار ادا کیا جب کہ جنگ بندی کے پچھلے معاہدوں کے دوران بھی ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو اسی طرح کے تبادلوں کے ذریعے رہا کیا گیا تھا۔
مصر نے سب سے پہلے ان قیدیوں میں سے 150 کو جنوری میں قبول کیا تھا اور 8 ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ان میں سے زیادہ تر اب بھی اسی ہوٹل میں مقید ہیں، ان کے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا گیا۔

یہ تمام افراد اسرائیلی فوجی عدالتوں سے قتل اور مزاحمتی تنظیموں کی رکنیت رکھنے کے الزامات میں عمر قید کی سزا پاچکے ہیں، تاہم، اقوام متحدہ کے ماہرین متعدد مواقع پر ان فیصلوں کو غیر منصفانہ قرار دے چکے ہیں، جنہیں مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف دہائیوں سے جاری غیر عادلانہ مقدمات کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اسرائیلی عدالتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالتیں دراصل قبضے کے نظام کا حصہ ہیں اور فلسطینیوں کو منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حقوق فراہم نہیں کرتیں۔

دوسری جانب، قاہرہ میں موجود ان فلسطینی سابق قیدیوں کو اب نئے مسائل کا سامنا ہے، ان کے پاس نقل و حرکت کی آزادی نہیں، کام کے اجازت نامے نہیں، اور یہ بھی واضح نہیں کہ ان کا اگلا قدم کیا ہوگا جب کہ مصری حکومت نے اب تک ان کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

45 سالہ مراد ابو الرب پر 2006 میں الفتح سے وابستہ تنظیم ’الاقصیٰ شہدا بریگیڈ‘ کے ایک آپریشن کے دوران 4 اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا الزام ہے، انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ کوئی عرب ملک ہمیں قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم 20 سال سے اپنے خاندانوں سے جدا تھے، اور اب وہ غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں، یہاں آکر بھی کچھ نہیں بدلا، میں اب بھی اپنی ماں یا بہن بھائیوں سے نہیں مل سکتا، جب مجھے گرفتار کیا گیا، میری چھوٹی بہن 15 سال کی تھی اور جب میں نے اسے ویڈیو کال پر دیکھا تو میں نے اسے پہچانا ہی نہیں۔

اپنی 19 سالہ قید کے دوران، ابو الرب کو 8 مختلف اسرائیلی جیلوں میں منتقل کیا گیا، اور وہ کسی ایک جیل میں چند ماہ سے زیادہ نہیں رہے۔

ایک اور قیدی جو قتل کے الزام میں 22 سال اسرائیلی جیلوں میں قید رہے، جس پر پاپولر فرنٹ فار دی لبرریشن آف فلسطین سے وابستگی کا الزام تھا، نے اپنی رہائی سے قبل کے لمحات کو سب سے اذیت ناک قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ درجنوں قیدیوں کو رسیوں سے باندھ دیا گیا۔ ہمیں آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا، پھر زمین پر منہ کے بل لٹا دیا گیا اور ہاتھ باندھ دیے گئے۔

50 سالہ محمود العرضہ، جنہیں قتل اور اسلامی جہاد تنظیم سے وابستگی کے الزام میں قید کیا گیا تھا، نے کہا کہ قید کے آخری دو سال ان کی زندگی کے سب سے بدترین تھے، روزانہ کی بنیاد پر مارپیٹ اور تضحیک کی جاتی تھی۔

فلسطینی اتھارٹی کے مطابق، تقریباً 11 ہزار فلسطینی اب بھی اسرائیلی قید میں ہیں جن پر تنازع سے متعلق الزامات عائد ہیں جب کہ ان کی ممکنہ آبادکاری کے حوالے سے پاکستان جیسے ممالک میں بات چیت جاری ہے، حسن عبد ربو نے بتایا کہ یہ تمام افراد اب بھی مصر میں مقیم ہیں اور ان کے قیام کے اخراجات قطر برداشت کر رہا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتھائی لینڈ کی سابقہ ملکہ 93 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں تھائی لینڈ کی سابقہ ملکہ 93 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں امریکا ایک نئی جنگ چھیڑناچاہتاہے: صدر وینزویلا پاک-افغان مذاکرات کا دوسرا دور آج استنبول میں ہوگا مریکا اور دیگر ممالک غزہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں، ترک صدر ہنگو میں 2 دھماکے، ایس پی آپریشن اسد زبیر سمیت 3 پولیس اہلکار شہید نیتن یاہو نے غزہ معاہدے کو خطرے میں ڈالا تو ٹرمپ انہیں خود سبق سکھائیں گے، امریکی اہلکار TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔

اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔

اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود