Jasarat News:
2026-07-24@04:42:03 GMT

تجدید وتجدّْد

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

2
علامہ ابن اثیر جزری نے ’’جامع الاصول‘‘ میں لکھا: ’’علماء نے اس حدیث کی تاویل میں کلام کیا ہے اور ہر ایک نے اپنی فہم کے مطابق کسی نہ کسی عالم کو مجدِّد اور اس حدیث کا مصداق قرار دیا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو عام رکھا جائے کیونکہ لفظِ ’’مَن‘‘ کا اطلاق واحد اور جمع دونوں پر ہوتا ہے۔ تجدید کا تعلق صرف فقہا کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے‘ اگرچہ دین کے معاملے میں امت کو زیادہ فائدہ علما ہی سے پہنچا ہے۔ مجدِّد کسی عہد کا اولو الامر یا صاحبِ اقتدار بھی ہو سکتا ہے‘ جیسے عہدِ ملوکیت میں نظامِ حکومت کی اصلاح کے باعث جناب عمر بن عبدالعزیز کو مْجَدِّد تسلیم کیا جاتا ہے۔ ہر شعبے کے لیے الگ الگ مجدِّد بھی ہو سکتے ہیں‘ کیونکہ دین اور مسلمانوں کے نظمِ اجتماعی کی تدبیر اور عدل کا قیام صاحبانِ اقتدار کی ذمے داری ہے‘ علومِ دینیہ کے مختلف شعبوں کے غیر معمولی ماہرکو بھی اپنے شعبے کا مجدِّد قرار دیا جا سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ان فنون میں مجدِّد اپنے عہد کے لوگوں میں ممتاز ہو اور اْس کے نمایاں تجدیدی کارنامے سب پر عیاں ہوں۔ تجدید ایک اضافی امر ہے‘ موجودہ دور میں دین سے انحراف‘ آزاد روی‘ دین سے بیزاری اور الحاد مائل بہ ترقی ہے‘ سو مْجدِّد کا اپنے عہد کے لوگوں سے تقابل ہوگا نہ کہ قرنِ اول سے لے کر آخر تک‘ کیونکہ متقدمین عہدِ نبوت سے قْرب کے سبب علم‘ عمل‘ حِلم‘ فضل اور تحقیق وتدقیق میں یقینا متاخِّرین پر فضیلت رکھتے ہیں‘ کیونکہ جس کا دور مَنبعِ نورِ ہدایت سے جتنا قریب رہا‘ اْس پر نور کا فیضان اتنا ہی زائد رہا‘‘۔ (مرقا المفاتیح)

ہر زمانے میں ایک ایسا تَجدّْد پسند طبقہ موجود رہا ہے جو خدمتِ دین کے نام پر دین کی نِت نئی تعبیرات وتشریحات پیش کرتا ہے‘ وہ ماضی کے مسلّمہ علمی وفقہی اْصولوں سے انحراف کرکے نئے خود ساختہ اصول وضع کرتا ہے اور اْمت میں اپنی فکری بدعات کو اس انداز میں متعارف کراتا ہے کہ اس کا ایک پہلو دین سے بھی جڑا نظر آئے‘ لیکن ساتھ ہی وہ روایتی دین سے جدا بھی نظر آئے‘ یعنی دین کی ایسی تعبیر وتشریح کہ جس میں جدّت اور نیا پن بلکہ کسی حد تک انوکھا پن ہو‘ الغرض دین کے بارے میں ایسی وارداتیں کرنے والے خیرخواہ کے روپ میں وار کرتے ہیں۔ شیطان کا طریقہ بھی یہی رہا ہے‘ اْس نے سیدنا آدم وحوا کو جب بہکانا چاہا تو قرآنِ کریم میں ہے: ’’وہ قسمیں کھا کرآدم وحوا کو باورکراتا رہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں‘‘۔ (الاعراف: 21) پس دین میں بگاڑ پیدا کرنے والا یہ طبقہ بھی مصلح اور خیر خواہ کے روپ میں نمودار ہوتا ہے۔ اس کی روح یہ ہے کہ دین کی وہ تعبیر وتشریح کی جائے جو مغرب کے لیے کسی درجے میں قابلِ قبول ہو‘ پس یہ روش مسلمانوں سے رسوخ فی العلم اور تَصَلّْب فِی الدِّین کی خوبی کو سلب کر کے دین کو لچکدار بنانے کا نام ہے کہ اْسے جدھر چاہیں‘ موڑ دیں اور جس تعبیر کا لبادہ پہنانا چاہیں‘ پہنا دیں۔

اس ڈگر پر چلنے والی تجدّْد کی خواہ قدیم تحریکیں ہوں (جیسے خوارج اور مْعتزلہ) یا عصر حاضر کی جدید تحریکیں ہوں‘ ان کا پہلا نشانہ سنت وحدیث بنتی ہیں۔ پس سنت وحدیث ہی قرآنی فکر کو تفصیلی عملی ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں اور دین کو اپنی منشا کے مطابق ڈھالنے میں انحرافی و الحادی تحریکوں کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ لہٰذا قرآن اور دین کی من پسند تفسیر وتاویل اور اسے جدید افکار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ان متجدِّدِین حضرات کو ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ درمیان میں سے سنت وحدیث کا کانٹا نکال دیا جائے۔ یہ وہی مرض ہے جس کی تشخیص سیدن عمرؓ بن خطاب نے ان الفاظ میں کی ہے: ’’عقل پرست لوگ سنت کے دشمن ہوتے ہیں‘ وہ احادیث کو یاد نہیں رکھ سکتے اور ان احادیث کی فہم اور ان کا استحضار ان کے بس سے باہر ہوتا ہے۔ پس جب صورتحال یہ ہو اور ان سے دین کے بارے میں سوالات کیے جائیں تو اْنہیں’’میں نہیں جانتا‘‘ کہنے میں عار محسوس ہوتا ہے‘ لہٰذا یہ لوگ فہمِ دین میں سنت کے بجائے اپنی عقل کو ہی معیار بنا لیتے ہیں‘‘۔ (جَامِعْ بَیان العِلمِ وَفَضلِہ) متجدِّدین کا طبقہ مسلمانوں کے ردِّعمل سے بچنے کے لیے حدیث وسنّت کا مطلق انکار تو نہیں کرتا‘ لیکن حجّیتِ حدیث کی نفی کر دیتا ہے‘ جب حْجّیتِ حدیث کی نفی کر دی جائے توآیاتِ قرآنی کی مَن مانی تاویلات وتوجیہات کرنے کا راستہ کھل جاتا ہے۔

حدیث پاک میں ہے: ’’بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان سے علم کو یونہی نہیں اٹھا لیتا (کہ غبارے کی شکل میں اُڑتا ہوا نظرآئے)‘ بلکہ جب علمائے حق کو اٹھا لیا جاتا ہے تو اْن کے ساتھ علمِ حق بھی اُٹھ جاتا ہے حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے تو لوگ جاہلوں کو اپنا (دینی) سربراہ بنا لیتے ہیں‘ پھر جب اْن سے مسائل پوچھے جاتے ہیں تو وہ (اپنے جہل کا اعتراف کرنے کے بجائے) جہالت پر مبنی فتوے دیتے ہیں‘ پس وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں‘‘۔ (بخاری)

اْمت میں تجدّْد پسندی کے رجحان کو جواز فراہم کرنے کے لیے مختلف تدبیریں اختیار کی جاتی ہیں: کبھی دین کو نئے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے نام پر‘ کبھی نئی نسل کے ذہنوں میں پائے جانے والے شبہات کے ازالے کے نام پر اور کبھی اسلام کے دفاع کے نام پر تجدّْد پسندی کی راہ اختیار کی جاتی ہے۔ حالانکہ حقیقی دفاع تو یہ ہے کہ دین اور نصوصِ قرآن وحدیث کو عقل ونقل سے درست ثابت کیا جائے‘ جبکہ متجدِدین اصل دین سے ہٹ کر نصوصِ قرآن کی ایسی من پسند تعبیرات کرتے ہیں جوآزاد خیال لوگوں کے نزدیک قابلِ قبول ہوں‘ وہ متصلِّب وراسخ العقیدہ دینداروں کو غالب کے اس شعر کا مصداق قرار دیتے ہیں:

اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ‘ انہیں کچھ نہ کہو
جو مے و نغمہ کو اندوہ ربا کہتے ہیں

مفہومی ترجمہ: یہ گزرے زمانے کے لوگ ہیں‘ ان سے الجھنے کا کوئی فائدہ نہیں‘ یہ تو وہ لوگ ہیں جو (خوشی کے اسباب) یعنی شراب وموسیقی کو بھی غم کے اسباب سمجھتے ہیں۔ اِن متجدِّدِین حضرات کے لیے تجدّْد پسندی کے نام پر اپنے نت نئے افکار کو کسی طرح کی سندِ جواز فراہم کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ کتاب وسنت اور اْن سے استنباط واستدلال کا جو طریقہ علمائے اْمت کا امتیاز اور خاصّہ رہا ہے‘ اس سے ان تجدّْد پسندوں کو دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ قرآن وسنت کی استنادی حیثیت اور اْصولِ فقہ و اْصولِ حدیث جیسے علوم آلیہ سے عام طور پر انہیں کچھ لینا دینا نہیں ہوتا بلکہ ان میں سے اکثر کی عربی زبان سے واقفیت بھی عموماً واجبی سی ہوتی ہے۔ وہ اکثر خود ساختہ تخیّْلاتی پیمانوں کی مدد سے تفہیم دین کا فریضہ انجا م دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ حضرات اپنے اپنے افکار کو اسلامیانے اور ان پر دین کا رنگ چڑھانے کے لیے تجدیدِ دین کے سائبان میں پناہ حاصل کرتے ہیں۔ گویا تجدید کے اصل کلمے یا لفظِ جدید سے ان حضرات نے یہ معنی سمجھا ہے کہ ہر دور میں اسلام کی ایک نئی تعبیر اور تشریح ہو گی۔ الغرض تجدیدِ دین کا یہ مفہوم لینا غلط ہے کہ دین میں جدت کی گنجائش موجود ہے‘ حالانکہ تجدّْد پسندی اپنی حقیقت اور اثرات کے اعتبار سے تجدید کی ضد ہے۔ علامہ اقبال نے کہا ہے:

خود بدلتے نہیں‘ قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق

فکری بدعت اور دین کو باطل افکار اور خواہشات کے تابع بنانے کا نام تجدّْد ہے‘ جبکہ اصلِ دین کی طرف لوٹنے اور دین کو اپنی اصل شکل میں پیش کرنے اور فعّال بنانے کا نام تجدید ہے۔
(جاری)

مفتی منیب الرحمن سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے نام پر کرتے ہیں دیتے ہیں یہ ہے کہ ہوتا ہے اور دین کرنے کے جاتا ہے ہے کہ ا کے لیے دین کی دین کا اور ان دین کے کہ دین دین کو

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔

تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔

اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف