آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شاہ اردن ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنے سرکاری دورے پر اردن پہنچے جہاں انہوں نے شاہِ اردن عبداللہ دوم ابن الحسین سے ملاقات کی۔
ملاقات میں اردن کے ولی عہد شہزادہ الحسین بن عبداللہ دوم بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مصری صدر سے ملاقات، دیرینہ دوستی کو مضبوط بنانے کا عزم کا اعادہ
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور، خصوصاً دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
???????? ???????? AMMAN — Pakistan's Chief of
Army Staff Field Marshal Syed Asim Munir met with His Majesty King Abdullah.
The meeting covered ways to enhance cooperation between Jordan and Pakistan, especially in defence, as well as regional developments.
Jordanian Chairman of the Joint… pic.twitter.com/SOSM5mWuXB
— Eagle Eye (@zarrar_11PK) October 27, 2025
اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستانی عوام، حکومت اور مسلح افواج کی جانب سے شاہ عبداللہ دوم کے لیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور پاکستان کی جانب سے اردن کے ساتھ برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
شاہ عبداللہ دوم نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور علاقائی امن و استحکام کے لیے ان کی خدمات کو سراہا۔
مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کا اہم دورۂ مصر، اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں، دفاعی تعاون اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر زور
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔
بعد ازاں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اردن کی مسلح افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف میجر جنرل یوسف احمد الحنیطی سے جنرل ہیڈکوارٹر عمان میں ملاقات کی۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی آمد پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قاہرہ میں شیخ الازہر سے ملاقات، انتہا پسندی کے خاتمے پر زور
ملاقات میں دونوں ممالک کی مسلح افواج کے مابین دیرینہ اور تاریخی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
میجر جنرل یوسف احمد الحنیطی نے پاکستان آرمی کے خطے میں امن و سلامتی کے لیے نمایاں کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم ابن الحسین شاہ اردن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم ابن الحسین شاہ اردن فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عبداللہ دوم مسلح افواج سے ملاقات کے لیے
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔