Express News:
2026-06-03@07:55:46 GMT

ڈیجیٹل میڈیا پر تنقید کے محرکات

اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT

کیا ڈیجیٹل میڈیا آج کی جدید دنیا میں ایک نئی سیاسی حقیقت ہے یا اس حقیقت کے پیچھے ہم کسی سازشی تھیوری کو تلاش کرکے اس نئے میڈیا کو ایک بڑے خطرناک رجحان سے جوڑ کر دیکھیں ۔کیونکہ دنیا میں جہاں ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت اور افادیت یا اس کی علمی وفکری حلقوں کے علاوہ عام لوگوں میں اس کو قبولیت ملی ہے وہیں اس نئے میڈیا کے رجحان پر تنقید کرنے والوں کی تعداد بھی زیادہ ہے اور ان میں ریاست اور حکومتوں کا مخالف بیانیہ بھی شامل ہے ۔

کوئی اسے ہیجانی، بے ہنگم اور بے سمت میڈیا قرار دیتا ہے تو ایسے لوگوں کی کمی بھی نہیں جو اسے شیطانی میڈیا سے بھی تشبیہ دیتے ہیں اور اس طبقہ کے بقول یہ میڈیا لوگوں کو مادر پدر آزادی دیتا ہے جس سے معاشرے میں اچھائی سے زیادہ بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔

ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ ہمیں پاکستان سمیت مختلف ریاستوں میں جو سیاسی ،سماجی ،مذہبی اور معاشی تقسیم کے علاوہ سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے جو پہلو نمایاں نظر آتے ہیںان میں ڈیجیٹل میڈیا کا کردار اہم ہے اور اس کردار کو منفی بنیادوں پرہی دیکھا جاتا ہے ۔

اسی تناظر میں ریاستوں اور حکومتوں پر جو دباؤ بڑھ رہا ہے یا ان کے مقابلے میں متبادل آوازیں ،سوچ یا خیالات جنم لے رہے ہیں یا ان کو چیلنج کیا جارہا ہے اس کی وجہ بھی معاشرے میں بڑھتا ہوا ڈیجیٹل میڈیا کا پھیلاؤ ہے ۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا نہ صرف آج ایک بڑی طاقت کے ساتھ موجود ہے بلکہ اس نے کئی معاملات میں الیکٹرانک اور پرنٹ کی سطح پر موجود میڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔کیونکہ ڈیجیٹل میڈیا کی طاقت نے لوگوں کو ایک متبادل میڈیا دیا ہے جس پر وہ اپنے علم اور معلومات کی بنیاد پر اظہار کرسکتے ہیں اور اب لوگ محض رسمی میڈیا کے محتاج نہیں رہے۔ 

اس کی ایک وجہ خود پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے جڑا ان کا اپنا داخلی بحران ہے۔ جس طریقے سے عالمی میڈیا میں نئی جہتیں اور تبدیلیاں رونما ہورہی ہے اس کے مطابق ہم پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال نہیں سکے یا رسمی میڈیا کو جن قسم کی حکومتی مشکلات کا سامنا ہے اس نے بھی ان کی عوامی مقبولیت کو محدود کیا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ اگر آج حکمرانی کے نظام سے لوگ نالاں ہیں یا اس پر تنقید کرتے ہوئے دباؤ کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں تو حکمران ڈیجیٹل میڈیا سے پریشان کیوں ہیں اور کیوں اس کے منفی پہلوؤں کو بنیاد بنا کر اسے چیلنج کررہے ہیں یا اس کو حکومتی نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں ۔

اصل میں تمام ملکوں میں موجود طاقت ور سیاسی اور غیر سیاسی اشرافیہ ڈیجیٹل میڈیا کی طاقت اور اس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو اپنی سیاست کے لیے ایک بڑا خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا پر سرگرم افراد کو حکومتوں کی طرف سے مختلف نوعیت کی مزاحمت کا سامنا ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا پر تنقید کرنے والے لوگوں کی خود ایک بڑی تعداد اپنا نقطہ نظر یا اپنا سیاسی بیانیہ بھی اسی ڈیجیٹل میڈیا کی مدد سے پیش کرتی ہے ۔ہمارے میڈیا میں سب ہی افراد اپنا بیانیہ جو وہ رسمی میڈیا میں تحریر یا گفتگو کی بنیاد پر پیش کرتے ہیں اس کی تشہیر کے لیے بھی وہ ڈیجیٹل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا کا جہاں مثبت استعمال ہورہا ہے وہیں اس کا منفی استعمال بھی ہورہا ہے ۔بالخصوص فیک نیوز یا معلومات کا پھیلاؤ، تنقید کے مقابلے میں تضحیک کے معاملات، کردار کشی ،کسی خاص منصوبہ بندی کے تحت انفرادی یا اداروں یا ریاست کے خلاف منفی یا جھوٹ پر مبنی مہم چلانا ،بغیر کسی تحقیق اور شواہد کے سیاسی فائدے کے لیے الزام تراشیوں کا کھیل ،منفی تقسیم کے عمل کو ابھارنا،پس پردہ کسی کی ترجمانی کرکے کسی کے خلاف پروپیگنڈا مہم ،کسی کا ڈیٹا کا غلط استعمال کرنا،سائبر کرائم ،کسی کی پرائیویسی کا احترام نہ کرنا جیسے امور اہم ہیں ۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہم ڈیجیٹل میڈیا سے جڑے سنجیدہ نوعیت کے مسائل کو اجاگر کرنے یا اس پر قانون سازی کرنا یا لوگوں کی سطح پر ڈیجیٹل میڈیا کے مثبت اور درست طریقوں کے استعمال کی آگاہی و تربیت دینے کے بجائے اسے کسی دشمن یا غیر ملکی سازشوں سے جوڑ کر مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر جو لوگ بھی ڈیجیٹل میڈیا پر حکمرانی کے نظام کو چیلنج کرتا ہے تو اس کو طاقت کے انداز میں دبانے کی حکمت عملی نے حکمرانی میں موجود شفافیت کے نظام کو چیلنج کیا ہے ۔

مسئلہ محض عام افراد کا ہی نہیں بلکہ خود سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی جماعت کے اندر اپنی حمایت کے لیے یا اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹ پر مبنی مہم چلانے کے پلیٹ فارم تشکیل دیے ہوئے ہیں اور اس کھیل میں جہاں وہ پیسے خرچ کرتے ہیں وہیں ان مہم کو سیاسی جماعتوں کی قیادت کی حمایت بھی حاصل ہوتی ہے ۔

سیاسی جماعتیں جب خود ہی اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے ہی اپنے سیاسی مخالفین کی کردار کشی ،الزام تراشیاں اور منفی شخصی مہم چلائیں گی تو پھر اصلاح کا عمل کیسے آگے بڑھ سکے گا۔

یہ جو سماج میں سیاسی سطح پر تقسیم پیدا ہوئی ہے یا سیاسی انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اس میں ایک بڑا کردار خود سیاسی جماعتوں کا بھی ہے جو کسی بھی سطح پر اپنے سیاسی مخالفین کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ۔یہ جو سیاسی تنقید کا عمل سیاسی دشمنی میں بدل رہا ہے اس کی بھی سیاسی جماعتوں کو حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔

 یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ڈیجیٹل میڈیا پر تنقید کی وجہ ہمارا حکمرانی کا نظام ہے جو لوگوں اور بالخصوص نوجوانوں کے حقیقی مسائل کو حل کرنے میں ناکام ثابت ہورہا ہے۔

اسی وجہ سے لوگوں میں حکمرانی کے نظام کے بارے میں سخت ردعمل پایا جاتا ہے اس کا اظہار ہم مختلف انداز میں ڈیجیٹل میڈیا میں دیکھ رہے ہیں ۔بدقسمتی سے ہمیں نوجوانوں کے طرز عمل پر تو بہت سے اعتراضات ہیں مگر ہمارا حکمران طبقہ ملک کے مسائل حل کرنے کے لیے نہ سنجیدہ ہے اور نہ ہی ان کی سیاسی ترجیحات نظر آتی ہیں ۔

اس لیے حکمرانی کے نظام میں اصلاحات درکار ہیں اور حکمرانی کی سطح پر اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔لوگ اور بالخصوص نوجوان طبقہ واقعی ملک کے حالات پر جہاں پریشان ہے وہیں اس کے اپنے حالات کو بدلنے میں امید کے پہلو کمزور ہوتے جارہے ہیں اور ہم ان حقیقی مسائل و مشکلات کو نظرانداز کرکے نوجوانوں سے طاقت اور ڈنڈے کے طور پر بات کرنا چاہتے ہیں یا ان سے نمٹنے کی حکمت عملی رکھتے ہیں، یہ طریقہ کار درست نہیں اور اسے ہر صورت تبدیل ہونا چاہیے۔

جب بھی ریاست کے نظام کو عوامی توقعات یا عوامی ترجیحات کی بنیاد کے بغیر چلانے کی کوشش کی جائے گی اور جدید بنیادوں پر تبدیلی حکمرانی کے نظام کا ایجنڈا نہیں ہوگا تو پھر نہ تو نظام کی تبدیلی ممکن ہوسکتی ہے اور نہ ہی نوجوانوں میں ردعمل کی سیاست کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔

اس لیے ڈیجیٹل میڈیا کی پالیسی اپنی جگہ مگر ان حالات سے نمٹنے کے لیے حکمرانی کی سطح پر معاشی اصلاحات اور ترجیحات کو بنیاد بنا کر ہمیں اپنے ریاستی نظام کی درستگی کی طرف بڑھنا ہوگا ،اور یہ ہی عمل ریاست کے مفاد کا بھی تقاضہ کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حکمرانی کے نظام ڈیجیٹل میڈیا کا ڈیجیٹل میڈیا پر ڈیجیٹل میڈیا کی سیاسی جماعتوں میڈیا میں کی سطح پر ہورہا ہے میڈیا کو میڈیا سے یہ ہے کہ رہے ہیں ہیں اور اور اس ہیں اس ہے اور کے لیے

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی