Express News:
2026-07-24@01:21:45 GMT

ڈیجیٹل میڈیا پر تنقید کے محرکات

اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT

کیا ڈیجیٹل میڈیا آج کی جدید دنیا میں ایک نئی سیاسی حقیقت ہے یا اس حقیقت کے پیچھے ہم کسی سازشی تھیوری کو تلاش کرکے اس نئے میڈیا کو ایک بڑے خطرناک رجحان سے جوڑ کر دیکھیں ۔کیونکہ دنیا میں جہاں ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت اور افادیت یا اس کی علمی وفکری حلقوں کے علاوہ عام لوگوں میں اس کو قبولیت ملی ہے وہیں اس نئے میڈیا کے رجحان پر تنقید کرنے والوں کی تعداد بھی زیادہ ہے اور ان میں ریاست اور حکومتوں کا مخالف بیانیہ بھی شامل ہے ۔

کوئی اسے ہیجانی، بے ہنگم اور بے سمت میڈیا قرار دیتا ہے تو ایسے لوگوں کی کمی بھی نہیں جو اسے شیطانی میڈیا سے بھی تشبیہ دیتے ہیں اور اس طبقہ کے بقول یہ میڈیا لوگوں کو مادر پدر آزادی دیتا ہے جس سے معاشرے میں اچھائی سے زیادہ بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔

ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ ہمیں پاکستان سمیت مختلف ریاستوں میں جو سیاسی ،سماجی ،مذہبی اور معاشی تقسیم کے علاوہ سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے جو پہلو نمایاں نظر آتے ہیںان میں ڈیجیٹل میڈیا کا کردار اہم ہے اور اس کردار کو منفی بنیادوں پرہی دیکھا جاتا ہے ۔

اسی تناظر میں ریاستوں اور حکومتوں پر جو دباؤ بڑھ رہا ہے یا ان کے مقابلے میں متبادل آوازیں ،سوچ یا خیالات جنم لے رہے ہیں یا ان کو چیلنج کیا جارہا ہے اس کی وجہ بھی معاشرے میں بڑھتا ہوا ڈیجیٹل میڈیا کا پھیلاؤ ہے ۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا نہ صرف آج ایک بڑی طاقت کے ساتھ موجود ہے بلکہ اس نے کئی معاملات میں الیکٹرانک اور پرنٹ کی سطح پر موجود میڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔کیونکہ ڈیجیٹل میڈیا کی طاقت نے لوگوں کو ایک متبادل میڈیا دیا ہے جس پر وہ اپنے علم اور معلومات کی بنیاد پر اظہار کرسکتے ہیں اور اب لوگ محض رسمی میڈیا کے محتاج نہیں رہے۔ 

اس کی ایک وجہ خود پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے جڑا ان کا اپنا داخلی بحران ہے۔ جس طریقے سے عالمی میڈیا میں نئی جہتیں اور تبدیلیاں رونما ہورہی ہے اس کے مطابق ہم پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال نہیں سکے یا رسمی میڈیا کو جن قسم کی حکومتی مشکلات کا سامنا ہے اس نے بھی ان کی عوامی مقبولیت کو محدود کیا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ اگر آج حکمرانی کے نظام سے لوگ نالاں ہیں یا اس پر تنقید کرتے ہوئے دباؤ کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں تو حکمران ڈیجیٹل میڈیا سے پریشان کیوں ہیں اور کیوں اس کے منفی پہلوؤں کو بنیاد بنا کر اسے چیلنج کررہے ہیں یا اس کو حکومتی نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں ۔

اصل میں تمام ملکوں میں موجود طاقت ور سیاسی اور غیر سیاسی اشرافیہ ڈیجیٹل میڈیا کی طاقت اور اس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو اپنی سیاست کے لیے ایک بڑا خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا پر سرگرم افراد کو حکومتوں کی طرف سے مختلف نوعیت کی مزاحمت کا سامنا ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا پر تنقید کرنے والے لوگوں کی خود ایک بڑی تعداد اپنا نقطہ نظر یا اپنا سیاسی بیانیہ بھی اسی ڈیجیٹل میڈیا کی مدد سے پیش کرتی ہے ۔ہمارے میڈیا میں سب ہی افراد اپنا بیانیہ جو وہ رسمی میڈیا میں تحریر یا گفتگو کی بنیاد پر پیش کرتے ہیں اس کی تشہیر کے لیے بھی وہ ڈیجیٹل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا کا جہاں مثبت استعمال ہورہا ہے وہیں اس کا منفی استعمال بھی ہورہا ہے ۔بالخصوص فیک نیوز یا معلومات کا پھیلاؤ، تنقید کے مقابلے میں تضحیک کے معاملات، کردار کشی ،کسی خاص منصوبہ بندی کے تحت انفرادی یا اداروں یا ریاست کے خلاف منفی یا جھوٹ پر مبنی مہم چلانا ،بغیر کسی تحقیق اور شواہد کے سیاسی فائدے کے لیے الزام تراشیوں کا کھیل ،منفی تقسیم کے عمل کو ابھارنا،پس پردہ کسی کی ترجمانی کرکے کسی کے خلاف پروپیگنڈا مہم ،کسی کا ڈیٹا کا غلط استعمال کرنا،سائبر کرائم ،کسی کی پرائیویسی کا احترام نہ کرنا جیسے امور اہم ہیں ۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہم ڈیجیٹل میڈیا سے جڑے سنجیدہ نوعیت کے مسائل کو اجاگر کرنے یا اس پر قانون سازی کرنا یا لوگوں کی سطح پر ڈیجیٹل میڈیا کے مثبت اور درست طریقوں کے استعمال کی آگاہی و تربیت دینے کے بجائے اسے کسی دشمن یا غیر ملکی سازشوں سے جوڑ کر مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر جو لوگ بھی ڈیجیٹل میڈیا پر حکمرانی کے نظام کو چیلنج کرتا ہے تو اس کو طاقت کے انداز میں دبانے کی حکمت عملی نے حکمرانی میں موجود شفافیت کے نظام کو چیلنج کیا ہے ۔

مسئلہ محض عام افراد کا ہی نہیں بلکہ خود سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی جماعت کے اندر اپنی حمایت کے لیے یا اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹ پر مبنی مہم چلانے کے پلیٹ فارم تشکیل دیے ہوئے ہیں اور اس کھیل میں جہاں وہ پیسے خرچ کرتے ہیں وہیں ان مہم کو سیاسی جماعتوں کی قیادت کی حمایت بھی حاصل ہوتی ہے ۔

سیاسی جماعتیں جب خود ہی اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے ہی اپنے سیاسی مخالفین کی کردار کشی ،الزام تراشیاں اور منفی شخصی مہم چلائیں گی تو پھر اصلاح کا عمل کیسے آگے بڑھ سکے گا۔

یہ جو سماج میں سیاسی سطح پر تقسیم پیدا ہوئی ہے یا سیاسی انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اس میں ایک بڑا کردار خود سیاسی جماعتوں کا بھی ہے جو کسی بھی سطح پر اپنے سیاسی مخالفین کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ۔یہ جو سیاسی تنقید کا عمل سیاسی دشمنی میں بدل رہا ہے اس کی بھی سیاسی جماعتوں کو حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔

 یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ڈیجیٹل میڈیا پر تنقید کی وجہ ہمارا حکمرانی کا نظام ہے جو لوگوں اور بالخصوص نوجوانوں کے حقیقی مسائل کو حل کرنے میں ناکام ثابت ہورہا ہے۔

اسی وجہ سے لوگوں میں حکمرانی کے نظام کے بارے میں سخت ردعمل پایا جاتا ہے اس کا اظہار ہم مختلف انداز میں ڈیجیٹل میڈیا میں دیکھ رہے ہیں ۔بدقسمتی سے ہمیں نوجوانوں کے طرز عمل پر تو بہت سے اعتراضات ہیں مگر ہمارا حکمران طبقہ ملک کے مسائل حل کرنے کے لیے نہ سنجیدہ ہے اور نہ ہی ان کی سیاسی ترجیحات نظر آتی ہیں ۔

اس لیے حکمرانی کے نظام میں اصلاحات درکار ہیں اور حکمرانی کی سطح پر اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔لوگ اور بالخصوص نوجوان طبقہ واقعی ملک کے حالات پر جہاں پریشان ہے وہیں اس کے اپنے حالات کو بدلنے میں امید کے پہلو کمزور ہوتے جارہے ہیں اور ہم ان حقیقی مسائل و مشکلات کو نظرانداز کرکے نوجوانوں سے طاقت اور ڈنڈے کے طور پر بات کرنا چاہتے ہیں یا ان سے نمٹنے کی حکمت عملی رکھتے ہیں، یہ طریقہ کار درست نہیں اور اسے ہر صورت تبدیل ہونا چاہیے۔

جب بھی ریاست کے نظام کو عوامی توقعات یا عوامی ترجیحات کی بنیاد کے بغیر چلانے کی کوشش کی جائے گی اور جدید بنیادوں پر تبدیلی حکمرانی کے نظام کا ایجنڈا نہیں ہوگا تو پھر نہ تو نظام کی تبدیلی ممکن ہوسکتی ہے اور نہ ہی نوجوانوں میں ردعمل کی سیاست کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔

اس لیے ڈیجیٹل میڈیا کی پالیسی اپنی جگہ مگر ان حالات سے نمٹنے کے لیے حکمرانی کی سطح پر معاشی اصلاحات اور ترجیحات کو بنیاد بنا کر ہمیں اپنے ریاستی نظام کی درستگی کی طرف بڑھنا ہوگا ،اور یہ ہی عمل ریاست کے مفاد کا بھی تقاضہ کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حکمرانی کے نظام ڈیجیٹل میڈیا کا ڈیجیٹل میڈیا پر ڈیجیٹل میڈیا کی سیاسی جماعتوں میڈیا میں کی سطح پر ہورہا ہے میڈیا کو میڈیا سے یہ ہے کہ رہے ہیں ہیں اور اور اس ہیں اس ہے اور کے لیے

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی