Nawaiwaqt:
2026-06-03@02:43:04 GMT

طالبان رجیم کا خاتمہ، پوری طاقت کی ضرورت نہیں: وزیر دفاع

اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT

طالبان رجیم کا خاتمہ، پوری طاقت کی ضرورت نہیں: وزیر دفاع

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نوائے وقت رپورٹ ) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان رجیم صرف اپنی قابض حکمرانی اور جنگی معیشت کو بچانے کے لیے افغانستان کو ایک اور تنازعہ میں دھکیل رہی ہے۔ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی دہشت گردانہ یا خودکش حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور کسی بھی مہم جوئی کا جواب سخت اور کڑوا  ہوگا۔ افغان طالبان رجیم مسلسل برادر ممالک سے مذاکرات کیلئے درخواست کر رہی تھی۔ برادر ممالک کی درخواست پر پاکستان نے افغان طالبان رجیم  کے ساتھ امن کی خاطر مذاکرات کی پیشکش کو قبول کیا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ بعض افغان حکام کے زہریلے بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان رجیم میں انتشار اور دھوکہ دہی بتدریج موجود ہے۔ پاکستان یہ واضح کرتا ہے کہ طالبان رجیم کو ختم کرنے یا انہیں غاروں میں چھپنے پر مجبور کرنے کیلئے پاکستان کو اپنی پوری طاقت استعمال کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم انہیں تورا بورا جیسے مقامات پر شکست دیکر لوگوں کیلئے مثال بنا سکتے ہیں جو اقوام عالم کیلئے دلچسپ منظر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس ہوتا ہے کہ طالبان رجیم صرف اپنی قابض حکمرانی اور جنگی معیشت کو بچانے کے لیے افغانستان کو ایک اور تنازعہ میں دھکیل رہی ہے، اپنی کمزوری اور جنگی  دعووں کی حقیقت کو  جانتے ہوئے  طبل جنگ بجا کر  بظاہر افغان عوام میں  اپنی بگڑتی ہوئی ساکھ بچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اگر افغان طالبان پھر بھی دوبارہ افغانستان اور اس کے معصوم عوام کو تباہ کرنے پر بضد ہیں  تو پھر جو بھی ہونا ہے وہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک ’’گریو یارڈ آف ایمپائر‘‘  کے بیانیے کا تعلق ہے، پاکستان خود کو ہرگز ’’ایمپائر‘‘ نہیں کہتا، حقیقت یہ ہے کہ افغانستان طالبان  کی وجہ سے اپنے ہی لوگوں کے لیے ایک قبرستان سے کم نہیں، تاریخی اعتبار سے افغانستان  سلطنتوں کا قبرستان تو نہیں رہا البتہ  ہمیشہ بڑی طاقتوں کے کھیل کا میدان ضرور رہا ہے۔ طالبان کے وہ جنگجو جو خطے میں بدامنی پھیلانے میں اپنا ذاتی فائدہ دیکھ رہے ہیں سمجھ لیں کہ انہوں نے  شاید پاکستانی عزم اور حوصلے کو غلط انداز میں لیا ہے۔ اگر طالبان رجیم  لڑنے کی کوشش کرے گی تو دنیا دیکھے گی کہ ان کی دھمکیاں صرف دکھاوا تھیں۔ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی دہشت گردانہ یا خودکش حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور کسی بھی مہم جوئی کا جواب سخت اور کڑوا  ہوگا۔ طالبان رجیم  کو چاہیے کہ اپنے انجام کا حساب ضرور رکھیں، کیونکہ پاکستان کے عزم اور صلاحیتوں کو آزمانا ان کے لیے بہت مہنگا ثابت ہوگا۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق خواجہ آصف نے کہا ہے کہ طالبان نے تصادم کا راستہ اپنایا ہے تو یہی سہی۔ ہم نے پورے خلوص سے امن کی کوشش کی۔ طالبان کی لگام دہلی کے ہاتھ میں تو مشکل ہے۔ پاکستان کو آزمانا ان کیلئے مہنگا ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا ہے کہ افغان سرزمین کے پاکستان کیخلاف استعمال ہونے کے ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ مذاکرات ناکام ہونے کی مکمل طور پر ذمہ دار افغان طالبان حکومت ہے۔ افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کی تشکیلوں میں شامل ہوکر پاکستان آتے ہیں۔ افغان طالبان اس بات پر آ ہی نہیں رہے کہ پاکستان کیخلاف کارروائیاں بند ہوں۔ سفارتی کوششوں سے امید رہتی ہے اور ہمیشہ رہنی چاہئے۔ پاکستان کا واحد مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہو۔ جب سے افغان طالبان حکومت آئی ہے انہوں نے ٹی ٹی پی کو سپورٹ کیا۔ افغان وزیر خارجہ نے دہلی میں بیٹھ کر کس حیثیت میں کشمیر پر بیان دیا۔ اب حملہ ہوا تو پاکستان شواہد دے گا اور بھرپور جواب بھی دیا جائے گا۔ دہشتگردوں کیخلاف تحریری یقین دہانی نہ دینا کیا منافقت نہیں ہے۔ مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ  آفریدی اپنا لہجہ اور الفاظ درست کر لیں تو شاید مشکلات حل ہو جائیں۔ انہوں نے ہائیکورٹ میں درخواست دی تو عدالت نے ان کی ملاقات میں آرڈر ہی نہیں کئے۔ عدالت  نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا کہ سی ایم سہیل آفریدی کی ملاقات کرائی جائے۔ وفاقی حکومت میں گورنر راج سے متعلق کوئی معاملہ زیر غور نہیں۔ بھارت کی فوج ہم سے پانچ گنا زیادہ ہے لیکن کامیاب حکمت عملی ہوتی ہے۔ افغانستان کی تسلی و تشفی کرا دی جائے گی۔ تسلی و تشفی ایک بار ہو چکی ہے، ایک دو بار پھر ہو گی تو مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے۔  افغانستان نے جارحیت کی تو بھارت کی طرح اسے بھی آرام آ جائے گا۔ افغانستان کے معاملے پر فیلڈ مارشل کے نکتہ نظر کی حمایت کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کہ طالبان رجیم افغان طالبان ہے کہ طالبان کہا ہے کہ انہوں نے کسی بھی نے کہا کے لیے

پڑھیں:

گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹو

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔

گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟

نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔

نواز شریف کی زیرصدارت پارلیمانی بورڈ اجلاس، جی بی الیکشن کے لیے امیدواروں پر مشاورت

اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔

اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔

وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔

ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی