ویب ڈیسک : اسلام آباد کچہری میں ہونے والے خودکش دھماکے پر عالمی برادری نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کی سخت مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے اور واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں۔

پہلی سے تیسری جماعت تک کے پرائمری نصاب میں تبدیلی کا فیصلہ

اسی طرح امریکی سفارت خانے نے بھی دھماکے پر پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ امریکا کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد میں اس کے ساتھ کھڑا ہے اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی رکھتا ہے، امریکا پاکستان کی امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

The United States stands in solidarity with Pakistan in the struggle against terrorism.

Our condolences to the families of those who lost their lives in today’s senseless attack. We wish a swift recovery to those injured. We condemn this attack and all forms of terrorism and…

— U.S. Embassy Islamabad (@usembislamabad) November 11, 2025

ملازمین کا سپیشل جوڈیشنل الاؤنسز ختم کرنے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ تیسرے روز بھی جاری

چینی سفارت خانے نے بھی خودکش حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔

یورپی یونین نے دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر قسم کی دہشت گردی کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔

We are deeply saddened and appalled by the tragic loss of lives in today’s terrorist attack in Islamabad. The ???????? EU unequivocally condemns terrorism in all its forms. Our thoughts are with the bereaved ???????? families, and we wish a swift recovery to all those injured. @KaroblisR

— EUPakistan (@EUPakistan) November 11, 2025

سوات میں اے این پی رہنما کی گاڑی کے قریب بم دھماکا

روسی سفارت خانے نے اسلام آباد دھماکے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس حملے کے منصوبہ سازوں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ روسی سفارت خانے نے متاثرین کے اہل خانہ سے ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کا اظہار کیا۔

پاکستان میں روسی سفارت خانہ اسلام آباد کے سیکٹر جی-11 میں جوڈیشل کمپلیکس کے قریب ہونے والے دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کرتا ہے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ اس حملے کے منصوبہ سازوں کو شناخت کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

ہم متاثرین کے لواحقین اور دوستوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے… pic.twitter.com/8EUW7oebKS

— Embassy of Russia in Pakistan (@RusEmbPakistan) November 11, 2025

برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے بھی اپنے بیان میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی شہری پاکستان کے متعلق سفری ہدایات پر عمل کریں۔

پنجاب میں کم لاگت اور معیاری ہاؤسنگ منصوبے میں اہم پیش رفت

We are aware of an explosion in Islamabad which has reportedly left several people dead. We are closely tracking, and British nationals should monitor travel advice. My thoughts are with the loved ones of those who have lost their lives.

— Jane Marriott (@JaneMarriottUK) November 11, 2025

پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر بن سعید المالکی نے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں جان نقصان ہوا اور متعدد افراد زخمی ہوئے، ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں اور اس افسوسناک واقعے پر پاکستان کے عوام سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔

ترکیہ کی وزارت خارجہ نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ ترکیہ نے اس واقعے کو پاکستان کے لیے ایک المناک سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک خطے میں امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔

Regarding the Terrorist Attack in Pakistan https://t.co/12IfyiF6KK pic.twitter.com/OWOwUcaA1N

— Turkish MFA (@MFATurkiye) November 11, 2025

فرانس اور نیدر لینڈ نے بھی اسلام آباد خود کش حملے کی شدید مذمت کی ہے اور پاکستانی حکومت اور عوام سے اظہار تعزیت کی ہے۔

???????? ???????? Deeply saddened by the toll of the terrorist attack today in Islamabad, which claimed many lives. We condemn terrorism in all its forms. Our condolences to the families of the victims and our wishes for a speedy recovery to the injured.

— France in Pakistan ???????????????? (@FranceinPak) November 11, 2025

اس کے علاوہ آسٹریلوی ہائی کمشنر نے بھی اسلام آباد خود کش حملے پر پاکستان سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے اور دھماکے کے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا ہے۔ آسٹریلوی ہائی کمیشن نے عوام کے تحفظ کے لیے سرگرم اداروں اور اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

We stand in solidarity with the people of Pakistan following today’s attack in #Islamabad’s G-11. Our thoughts are with the victims and their families, and with all working to keep communities safe. ???????????????????? pic.twitter.com/Wzgh2dsrVF

— Australian High Commission, Pakistan (@AusHCPak) November 11, 2025

قطر نے بھی اسلام آباد میں خود کش حملے اور وانا میں دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ قطر ہر قسم کے تشدد اور دہشتگردی کو سختی سے مسترد کرتا ہے، متاثرین کے اہلِ خانہ، حکومت اور عوام سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں۔

کینیڈا نے بھی حملے کی مذمت کی اور متاثرین کے لواحقین کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

1/2 Canada is saddened by the lives lost and condemns the attack near the District Judicial Complex in Pakistan. Canada offers its condolences to the victims’ families and wishes those injured a speedy recovery.

— Canada in Pakistan (@CanHCPakistan) November 11, 2025

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے کہا کہ سفارت خانے نے کا اظہار کرتے کا اظہار کیا متاثرین کے پاکستان کے اسلام آباد مذمت کرتے سے اظہار کرتے ہیں کے ساتھ مذمت کی حملے کی کے اہل کے لیے ہے اور نے بھی

پڑھیں:

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ شاہ رحیم الحسینی نے اپنے سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران گلگت بلتستان اور چترال میں مریدوں سے اہم ملاقات کی ہیں تاہم ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہوا جب گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

شہزادہ شاہ رحیم الحسینی امامت سنبھالنے کے بعد پہلی بار 20 مئی کی شام اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پر پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری اور خاتونِ اوّل نے نور خان ایئر بیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا اور ایوانِ صدر میں ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا جبکہ اگلی صبح وزیراعظم نے انہیں ناشتے پر مدعو کیا۔ پرنس شاہ رحیم 22 مئی کو گلگت بلتستان پہنچے اور مریدوں سے ملاقات اور دیدار کا سلسلہ شروع ہوا۔

پرنس شاہ رحیم کا دورہ اور گلگت بلتستان الیکشن

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا کا امامت سنبھالنے کے بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ ان کے دورے کا باضابطہ اعلان ہوتے ہی گلگت بلتستان اور چترال میں ان کے مریدوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جشن کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

پرنس رحیم نے ایک ایسے وقت میں گلگت بلتستان میں اپنے مریدوں سے ملاقات کی جب وہاں عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع تھی۔ اسماعیلی برادری کے دورے کا سیاست اور الیکشن سے کوئی تعلق ہے نہ ہی انہوں نے سیاست پر کوئی بات کی۔ انہوں نے اپنے مریدوں سے خطاب میں تعلیم، معاشیات، ہنر، موسمیاتی تبدیلی اور جدید دور کے تقاضوں پر بات کی، تاہم اس کے باوجود کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ ان کے دورے کا الیکشن پر کچھ حد تک بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے۔

مریدوں کا جھکاؤ کس طرف ہو گا؟

آغا خان کے دورے اور گلگت بلتستان الیکشن پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر آغا خان پنجم کے دورے کا الیکشن پر کوئی اثر نظر نہیں آ رہا۔ ان کے مطابق آغا خان کا خاندان غیر سیاسی ہے اور کبھی انہوں نے کسی ملک کی سیاست یا انتخابات پر بات کی ہے نہ ہی اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ حالیہ دورے کے دوران بھی انہوں نے کہیں بھی سیاست پر بات نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں:پرنس رحیم آغا خان کا پہلا سرکاری دورۂ پاکستان مکمل، خیرسگالی اور یکجہتی کا پیغام

نوجوان صحافی کامران علی جنہوں نے آغا خان پنجم کے دورے کی کوریج کی، کا کہنا ہے کہ پرنس رحیم نے اپنے مریدوں سے خطاب میں سیاست پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ آغا خان نے سیاست پر بات نہیں کی، لیکن جن رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا اور عزت دی، ان کا گراف مریدوں کی نظر میں بلند ہو گیا۔ ’گلگت بلتستان میں اسماعیلی برادری کی خاصی آبادی ہے اور ان کے ووٹ کسی کی بھی جیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں‘۔

کامران علی کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اپنی بیٹی اور خاتونِ اول کے ساتھ خود نور خان ایئر بیس گئے اور آغا خان کا استقبال کیا۔ جب وہ ایوانِ صدر پہنچے تو بلاول بھٹو زرداری نے بھی ان کا خیر مقدم کیا۔

کامران علی نے بتایا کہ جب آغا خان شاہ رحیم الحسینی کے والد شاہ کریم الحسینی کا انتقال ہوا تھا تو اس وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری تعزیت کے لیے پرتگال گئے تھے۔ ’اگرچہ آغا خان کا سرکاری سطح پر استقبال کیا جاتا ہے، لیکن آصف علی زرداری کی اہمیت مریدوں کی نظر میں بڑھ گئی ہے‘۔

کامران نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی اسے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا، لیکن مرید سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور امام کی عزت و وقار کے لیے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:گلگت بلتستان الیکشن میں کس کا پلہ بھاری ہے؟

ان کاکہنا ہے کہ ’میرے خیال میں اگر آغا خان کے دورے کا سیاسی سطح پر کوئی فائدہ ہوا تو وہ پیپلز پارٹی کو ہو گا، کیونکہ انہوں نے اس دورے کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ وفاق میں صدر، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے گورنرز نے ان کا بھرپور استقبال کیا‘۔

آغا خان کے دورے کا فائدہ کس حد تک ہو گا؟

اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والوں کا خیال ہے کہ اس دورے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ذاکر خان کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور وہ اپنے امام کے دیدار کے لیے کراچی سے گئے تھے، نے بتایا کہ اس دورے کے دوران کہیں بھی انہوں نے سیاست پر بات نہیں کی۔

ذاکر کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے جس طرح آغا خان کا استقبال کیا اور عزت دی، اس سے ان کی نظروں میں ان کی اہمیت بڑھ گئی۔

ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے ابھی تک اسے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا۔ ذاکر کا خیال ہے کہ اس دورے سے وہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہوں نے دورے کے دوران پیش پیش رہ کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہو۔ ’اسماعیلی برادری کے لوگ تعلیم یافتہ ہیں، وہ میرٹ پر یقین رکھتے ہیں اور ووٹ بھی میرٹ پر ہی دیتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی طرف جھکاؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن دیگر جماعتوں سے بھی اسماعیلی امیدوار میدان میں ہیں۔ ’اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے امیدوار جماعت کے دفاتر یا دیگر نجی ملاقاتوں میں اس دورے کا ذکر کرتے ہیں اور اپنی جماعت کی طرف سے امام کو دیے گئے عزت و احترام کو ووٹرز کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں:تعلیم، برداشت اور اخلاقی رویوں سے انسانیت کی خدمت کی جائے، پرنس رحیم آغا خان کا  گلگت میں خطاب

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری الیکشن مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں جبکہ نواز شریف بھی وہاں پہنچے ہیں۔ دونوں جماعتوں نے آغا خان کو بہت عزت دی، لیکن الیکشن مہم میں اس کا ابھی تک براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ جس جماعت نے امام کو عزت دی ہے، اس کا گراف اسماعیلی برادری میں بلند ہو گیا ہے تاہم یہ مقامی امیدواروں پر ہے کہ وہ اسے کیسے کیش کرتے ہیں‘۔

ذاکر نے بتایا کہ اس دورے کو سیاست کے ساتھ منسلک کرنے سے سیاسی امیدواروں اور جماعتوں کو نقصان کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسماعیلی برادری کے لوگ مذہب کو سیاست سے الگ رکھتے ہیں اور موقع پرستوں کو پسند نہیں کرتے۔

سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تمام امیدواروں کے لیے نیک خواہشات

اسماعیلی کونسل گلگت کی امورِ عامہ و سیکیورٹی کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ کونسل ایک غیرسیاسی اور غیرجانبدار ادارہ ہے اور گلگت بلتستان اسمبلی کی جاری انتخابی مہم میں کسی سیاسی جماعت، امیدوار یا انتخابی گروپ کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتی۔

مقامی نیوز ویب سائٹ پامیر ٹائمز کے مطابق انتخابات سے قبل جاری بیان میں کمیٹی نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور آزاد امیدوار پورے خطے میں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اسماعیلی کونسل ایک امامت کا ادارہ ہے جو سیاسی معاملات میں سخت غیرجانبداری برقرار رکھتی ہے اور کسی امیدوار یا جماعت کی توثیق نہیں کرتی۔

اسماعیلی کونسل نے یہ بیان اس وقت جاری کیا جب اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شاہ رحیم الحسینی گلگت بلتستان کا دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہو گئے۔

بیان میں کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں، ان کے نمائندوں اور آزاد امیدواروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتخابی عمل جمہوری اقدار، باہمی احترام، قانون کی حکمرانی اور پرامن ماحول کے مطابق ہوگا۔

مزید پڑھیں:وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پرنس رحیم آغا خان کی ملاقات، آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کو وسعت دینے پر زور

بیان میں مزید زور دیا گیا کہ ہر اسماعیلی ووٹر اپنے ضمیر، سیاسی سمجھ بوجھ اور ذاتی رائے کے مطابق آئینی حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے آزاد ہے۔ اس پر زور دیا گیا کہ کونسل کسی فرد یا گروہ کو کسی خاص سیاسی جماعت یا امیدوار کی حمایت یا مخالفت کی ہدایت نہیں دیتی۔

اسماعیلی کونسل نے کمیونٹی کے افراد پر زور دیا کہ وہ انتخابی مدت کے دوران احترام، اتحاد، رواداری اور ذمہ دارانہ رویہ برقرار رکھیں، سیاسی وابستگیوں کو ذاتی معاملہ سمجھیں اور کمیونٹی کے اتحاد کو ترجیح دیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف علی زرداری آصفہ بھٹو آغا الیکشن بلتستان پرنس پرنس رحیم آغا پیپلز پارٹی دورہ پاکستان رحیم عام انتخابات گلگت

متعلقہ مضامین

  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے