53 کروڑ کے فراڈ کیس میں حتمی چالان جمع، عاطف خان سمیت 6 افراد ملزم قرار
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل نے نجی کمپنی سے 53 کروڑ روپے کے فراڈ کے مقدمے کا حتمی چالان عدالت میں پیش کر دیا ہے۔
کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ جنوبی میں سماعت کے دوران ایف آئی اے نے مقدمے کا حتمی چالان جمع کرایا۔ حتمی چالان میں اداکارہ نادیہ حسین کا نام شامل نہیں ہے، تاہم ان کے شوہر عاطف خان سمیت 6 افراد کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، جن کے خلاف ٹرائل کیا جائے گا۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان پر جعلسازی، خیانت اور فراڈ کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ ایف آئی اے نے رواں برس مارچ میں عاطف محمد خان کو نجی بینک میں کروڑوں روپے کے خرد برد کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ عاطف خان یکم جولائی 2015 کو اس نجی بینک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر ہوئے تھے اور تعیناتی کے دوران انہوں نے اپنی ذاتی کمپنی بھی قائم کی تھی۔
بینک کے گروپ ہیڈ کی جانب سے گزشتہ سال ایک درخواست میں ان پر مالیاتی خرد برد کے الزامات لگائے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حتمی چالان ایف آئی اے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔