اسلام آباد: سینیٹ میں عسکری اور عدالتی قوانین سے متعلق 4 اہم ترمیمی بل واضح اکثریت کے ساتھ منظور کرلیے گئے۔

چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر تعلیم طارق فضل چوہدری نے بل پیش کیے، جن میں پاکستان آرمی ایکٹ، پاکستان ایئر فورس ایکٹ، پاکستان نیوی ایکٹ اور سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل شامل تھے۔

بلز کی منظوری کے وقت ایوان میں  تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے ارکان نے نہ صرف ترمیمات کی کھل کر مخالفت کی بلکہ مطالبہ کیا کہ ان بلوں کو مزید غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔

پی ٹی آئی کے رکن ہمایوں مہمند اور جے یو آئی کے کامران مرتضیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ اتنے حساس نوعیت کے قوانین میں تبدیلی بغیر تفصیلی غور کے نہیں ہونی چاہیے، تاہم چیئرمین سینیٹ نے ان مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے بلوں کو رائے شماری کے لیے پیش کردیا۔ رائے شماری کے نتیجے میں ایوان نے بھاری اکثریت کے ساتھ چاروں بل منظور کرلیے۔

اسحاق ڈار نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم کے بعد سیکورٹی اداروں سے متعلق قوانین کو ہم آہنگ کرنا ضروری تھا، اسی وجہ سے آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے ایکٹس میں ترامیم لائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے تقاضوں اور انتظامی ڈھانچے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترمیمات ناگزیر ہوچکی تھیں۔

ایوان کی کارروائی کے دوران حکومتی بینچوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ترامیم ملک کے دفاعی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا حصہ ہیں، جبکہ اپوزیشن ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ بلوں کو جلد بازی میں منظور کرایا جارہا ہے جس سے قانون سازی کے معیار پر اثر پڑے گا، تاہم حکومتی موقف کے سامنے اپوزیشن کی مزاحمت کمزور ثابت ہوئی اور ایوان نے بآسانی بل منظور کرلیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔

قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔

ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،

وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن