سندھ میں ایک نئے کنویں سے تیل کی پیداوار کا آغاز کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سندھ میں توانائی کے شعبے کے لیے ایک اور بڑی پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جہاں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے ضلع حیدرآباد میں واقع پاساکھی فیلڈ کے ایک نئے کنویں سے تیل کی باقاعدہ پیداوار شروع کر دی ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے ترجمان کے مطابق یہ کامیابی اس کے جاری ایکسپلوریشن پروگرام میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی، پاساکھی-14 نامی کنواں، جو پاساکھی نارتھ ڈی اینڈ پی ایل بلاک میں واقع ہے، ابتدائی طور پر یومیہ 1100 بیرل خام تیل پیدا کر رہا ہے۔ کمپنی کا اس فیلڈ میں ورکنگ انٹرسٹ مکمل 100 فیصد ہے، جس کے باعث اس دریافت کو او جی ڈی سی ایل کی مجموعی ملکی پیداواری صلاحیت میں اہم اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پاساکھی-14 کی ڈرلنگ 2183 میٹر کی گہرائی تک مکمل کی گئی، اور اس پورے عمل میں جدید تکنیکوں کا استعمال کیا گیا، جن میں آر ایس ایس، ایم ڈبلیو ڈی اور نائٹرائیفائیڈ مڈ سسٹم جیسی ٹیکنالوجیز شامل ہیں—یہ او جی ڈی سی ایل کے ڈرلنگ آپریشنز میں پہلی بار آزمائی گئیں۔ کنویں میں پروڈکشن کی بہترین کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے جدید ای ایس پی (الیکٹرک سبمرسبل پمپ) ٹیکنالوجی بھی نصب کی گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق ایکسپلوریشن اور ڈویلپمنٹ سرگرمیوں میں سرمایہ کاری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور پاساکھی-14 کی پیداواری شروعات اس بات کا ثبوت ہے کہ او جی ڈی سی ایل ملکی توانائی کے تحفظ کے شعبے میں اپنا کردار مزید مؤثر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: او جی ڈی سی ایل
پڑھیں:
سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
فائل فوٹوسندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔
تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔