Jasarat News:
2026-07-24@13:05:02 GMT

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ساڑھے تین دہائیاں قبل ہم نے پاکستان کے سیاسی حالات پر لکھنے کا آغاز کیا تو شاید ابتدائی ہی تحریر وں میں علامہ اقبال کا یہ مصرع لکھا ہوگا کہ ’’کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں‘‘۔ برسوں بعد آج بھی پاکستان کے حلیے رنگ ڈھنگ منصوبہ بندی آگے بڑھنے کی تمنا اور مسائل سلجھانے کی حکمت عملی کا جائزہ لیں تو یہی مصرع یاد آتا ہے۔ یوں لگ رہا ہے کہ جیسے وقت تھم کر رہ گیا ہو۔ پرانے اخبارات کی فائلیں کھنگالیں تو اندازہ ہوتا ہے بیتی ہوئی دہائیوں کا نہیں کل کا اخبار پڑھ رہے ہیں۔ ایڈہاک ازم اور کسی وقتی ناگزیر ِاعظم کی چھاؤں میں تھوڑی دیر سستانے کے لیے پالیسیاں تشکیل پاتی ہیں۔ پھر وقت کا دھارا بہہ جاتا ہے اور اپنے دور کا ناگزیر اعظم منظر سے ہٹ جاتا ہے تو اس کی ساری پالیسیاں ردی کی ٹوکری میں ڈال جاتی ہیں اور نئے نعروں اور نئے خوابوں کا ٹھیلہ سج جاتا ہے۔ پاکستانی اس ٹھیلے کے گرد جمع ہو کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اب ان کی منزل آگئی مگر حقیقت میں ان کی منزل کچھ اور دور ہو چکی ہوتی ہے۔

خدا جانے کس بدبخت نے پاکستان کو بے سمتی کی بددعا دی تھی کہ ہم قومی طور پر اپنی سمت ہی بھول بیٹھے ہیں۔ وقت ِ قیام سجدے میں گرجاتے ہیں اور سجدے کے وقت قیام کے لمحات طویل کر تے چلے جاتے ہیں۔ نظریۂ ضرورت ہمار قومی نظریہ ہے۔ ضرورت کے تحت قانون بنانا قانون بدلنا فیصلہ کرنا ہماری فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ حد تو یہ قرارداد مقاصد کے تحت ہم یہ طے کر بیٹھے کہ اس ملک کے خدوخال اسلامی اقدار پر مبنی ہیں۔ اس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی اسی سوچ کا آئینہ دار تھا۔ پھر ایک مقام پر اس ملک کی سیاسی قیادت نے سرجوڑ کر ایک ایسا آئین تشکیل اور ترتیب دیا کہ جس کا مجموعی رنگ اسلامی اور پارلیمانی تھا۔ کبھی اس آئین کی قطع وبرید کا عمل جاری رہا تو کبھی کوئی صاحب یہ کہتے پائے گئے کہ آئین منسوخ نہیں ہوا بلکہ معطل ہوا ہے۔ اپنے دور کے یہی ناگزیر اعظم فرماتے تھے کہ آئین کیا ہوتا کاغذ کا ایک ٹکڑا۔ یوں قوم کی اجتماعی دانش کا نتیجہ یعنی آئین پاکستان ہمیشہ سے بازیچہ ٔ اطفال ہی بنا رہا۔ یہ وہی آئین ہے جس کے بارے میں قادیانیوں کے پچھلے روحانی پیشوا مرزا طاہر کے یہ الفاظ آج بھی انٹرنیٹ پر سنے جا سکتے ہیں کہ ’’پاکستان اور موجود آئین ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ آئین باقی رہا تو پاکستان باقی نہیں رہے گا‘‘۔

آئین پاکستان کے ساتھ ان کی یہ پرخاش تو قابل فہم تھی ہی مگر طاقت کے کھلاڑیوں کو بھی اس آئین سے ہمیشہ جلن سی محسوس ہوتی رہی۔ ہونا بھی چاہیے کہ مہذب معاشروں میں آئین کھیل کے اصول اور مختلف مراکز کے درمیان مختلف دائرے قائم کرتا ہے۔ کسی کو کسی دوسرے پر چڑھ دوڑنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ حیرت ہے کہ پاکستان میں اس آئین کی تشکیل کا یہ کمال کیسے ہوگیا؟ شاید یہ وہ مختصر دور تھا جب معاملات پر سیاست دانوں کا کچھ کنٹرول تھا اور ان سے بڑے طاقت کے کھلاڑی کچھ تنہا اور کچھ تھکے تھکے سے دکھائی دیتے تھے۔ فاول پلے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے طاقت کے بے آئین کھیل میں ہم نے ون یونٹ تشکیل دے دیا۔ مقصد یہ تھا کہ مشرقی پاکستان وسائل میں حصہ بقدر جثہ وصول نہ کر سکے۔ حق مانگنے والوں کے حق کے انکار کے لیے ہم کس حد تک جاتے ہیں ون یونٹ کے قیام کے پیچھے ذہنیت سے اس اندازہ ہو سکتا ہے۔

جدید اور مہذب ریاستیں کچھ اداروں اور علامتوں سے تشکیل پاتی ہیں۔ ریاستوں کو بس چلانا ہی مقصود ہو تو اس کے لیے یوں بھی کسی ضابطے قاعدے یا دستور العمل کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ بس اپنے دور کے حاکم کا فرمان ہی اس کا دستور العمل ہوتا ہے۔ ریاستیں عوام اور مختلف النوع اداروں کے قیام سے وجود پاتی ہیں۔ ایسی ریاستیں جنہیں گھڑا گیا ہوا تراشا گیا ہو، بنایا گیا ہو کھیل کے آداب کا تقاضا کرتی ہیں۔ ایسی ریاستوں میں ایڈہاک ازم اور تجربات کو مستقل پالیسی کے طور پر اپنایا نہیں جاتا۔ اس کا خمیازہ اکہتر میں ہم بھگت چکے ہیں۔ آج کے پاکستان میں ادارے ایک ایک کرکے منہدم ہورہے ہیں اور انہدام کی ہر آواز کے ساتھ ہم سجدۂ شکر بجالاتے ہیں کہ ملک مضبوط ہوگیا۔ صحافت کو ملک کا چوتھا ستون کہا جاتا تھا۔ ایک روز یہ ستون دھڑام سے گرگیا اور اس کی جگہ واٹس ایپ صحافت نے لی ہم نے سمجھا کہ پاکستان مضبوط ہوگیا۔ پھر ایک روز عوام کے فیصلے کے نتیجہ اغوا ہوگیا اور یوں ریاست کا دوسرا ستون مقننہ گرگیا اور عوامی مینڈیٹ کی جگہ فارم سینتالیس کا نظام آیا ہم نے پھر سکھ کا سانس لیا کہ اب عوامی مینڈیٹ کا رُخ اور رنگ بدلنے کا ہنر ہمیں آگیا اور اس سے ملک مضبوط ہوگیا۔ اس کے نتیجے میں جو انتظامیہ قائم ہوئی وہ بھی گرا ہوا ستون تھا۔ آخر میں عدلیہ کا ستون بھی گرگیا اور اب پاکستان کو مضبوط اور محفوظ بنانے کا سفر تمام ہوا اور یوں ہماری ریاست اداروں کے ملبے پر مضبوط سے مضبوط تر اور خوب سے خوب تر کے سفر پر گامزن ہے۔

عارف بہار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گیا اور گیا ہو

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا
  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی