قوم اور ریاستی اداروں کے درمیان یکجہتی انتہائی ضروری ہے، تحریک اہلسنّت
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک اہلسنّت پاکستان کے مرکزی چیئرمین پیر صاحبزادہ قاضی فیض رسول حیدر رضوی، صدر پیر سید مراتب علی شاہ، سیکریٹری جنرل ڈاکٹر مفتی محمد یونس رضوی، چیف آرگنائزر سید حیدر شاہ، صوبہ سندھ کے صدر پیر سید ارشد علی شاہ کاظمی القادری، کراچی ڈویژن کے صدر علامہ محمد حفیظ اللہ ہادیہ اور دیگر رہنماؤں نے ملک کی موجودہ سیاسی، سماجی اور سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، قوم اور ریاستی اداروں کے درمیان یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔پاکستان اس وقت ایک نہ ختم ہونے والی دہشت گردی کی لہر سے گزر رہا ہے جس نے ملک کی سلامتی اور عوام کی زندگیوں کو سنگین خطرات میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے نے نہ صرف عوامی مقامات کو نشانہ بنایا بلکہ سیکیورٹی کے تمام اداروں کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی وارداتوں میں تیزی آئی ہے، جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے اور حکومتی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔تحریک اہلسنت پاکستان کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ وقت پاکستان کے عوام اور ریاستی اداروں کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں ہر پاکستانی کو اپنے کردار کو سمجھنا ہوگا اور ہر سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کسی بھی قوم کے لیے سنگین مسئلہ ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے نہ صرف حکومتی اداروں بلکہ عوام کا بھی اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم سب مل کر اس چیلنج کا مقابلہ نہیں کریں گے تو دشمن قوتیں ہمیں مزید تقسیم کرنے اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔تحریک اہلسنت پاکستان کے رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی جماعت کا مقصد صرف ملک میں امن قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ وہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ اور دین اسلام کی صحیح تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے بھی سرگرم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کے اداروں کے کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔