برداشت کا فروغ ملکی ترقی اور امن کے لیے ناگزیرہے ‘ وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انتہا پسندی اور نفرت انگیزی کی کوئی گنجائش نہیں، برداشت کا فروغ ملکی ترقی اور امن کے لیے ناگزیر ہے۔عالمی یوم برداشت پر پیغام دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام اور ہم آہنگی برداشت سے پیدا ہوتی ہے، عدم برداشت معاشرتی بگاڑ کا سبب ہے، مثبت رویے اپنانے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ عالمی یوم برداشت انسانیت کے اقدار کو اجاگر کرنے کا دن ہے، پاکستان ہر سطح پر احترام اور باہمی برداشت کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے، بہتر معاشرے کی بنیاد رواداری کو اپنانا ہم سب کی ذمے داری ہے۔دریں اثنا، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی عالمی یوم برداشت کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان ہم آہنگی اور پْر امن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، برداشت کے اصول اسلام کی اعلیٰ تعلیمات سے جڑے ہوئے ہیں۔آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ اسلام امن، ہم آہنگی اور رواداری کا علمبر دار ہے، حکومتی پالیسیوں کا محور سماجی اور مذہبی استحصال کاخاتمہ ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ تمام طبقات محبت، برداشت اور بھائی چارے کے فروغ میں کردار ادا کریں، رواداری اور سماجی ہم آہنگی ہماری قومی پہچان ہونی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔