علیمہ خان 11 مرتبہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد عدالت کے سامنے پیش ہو گئیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان 11 مرتبہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے بعد عدالت کے سامنے پیش ہو گئیں۔
علیمہ خان 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے میں پیشی کے لیے عدالت پہنچیں۔
علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک اور اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ بھی اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔
عدالت کارروائی
دورانِ سماعت عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قانونی طور پر علیمہ خان اس وقت گرفتار ہیں، علیمہ خان نے ہر عدالتی حکم کو نظر انداز کیا، علیمہ خان ضمانتی مچلکے خارج ہونے کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہوئی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ علیمہ خان کے ضمانتی مچلکے خارج ہوئے تو نئے مچلکے داخل کیوں نہیں کروائے گئے، ایک ماہ گزر گیا ملزمہ علیمہ خان عدالت میں پیش نہیں ہو رہی۔
اس پر وکیلِ صفائی نے کہا کہ ہمیں عدالتی آرڈر کی کاپی دی جائے، آج ہی نئے مچلکے داخل کروا دیں گے، ہم بھاگ نہیں رہے مناسب تاریخ اور وقت کی استدعا کر رہے ہیں، ملزمہ علیمہ خان بیمار ہونے کے باوجود آج عدالت کے احترام میں پیش ہوئیں۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ملزمہ بیمار ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے تو قانون موجود ہے، استثنیٰ کی درخواست دے دیں، آپ نے عدم پیشی، فرد جرم، عدالتی نوٹسز اور تفتیش کو کسی بھی اسٹیج پر کیوں چیلنج نہیں کیا۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمہ اور وکیل صفائی عدالت میں موجود ہیں، لکھ کر دیں کہ وہ 26 نومبر کو پیش ہوں گے۔
سماعت کے دوران علیمہ خان نے عدالت کو یقین دلایا وہ آئندہ سماعت پر عدالت پیش ہوں گی۔
علیمہ خان نے دورانِ سماعت نمل یونیورسٹی میانوالی کا اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے کی بھی استدعا کی۔
دوران سماعت وکیل صفائی فیصل ملک اور پراسیکیوٹر ظہیر شاہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ علیمہ خان پر فرد جرم ہوئے ایک ماہ سے زائد گزر چکا ہے لیکن وہ مسلسل غیرحاضر ہیں، 11سماعتوں سے غیر حاضری پر استثنیٰ کی کوئی درخواست بھی نہیں آئی، 11سماعتوں سے وکیل صفائی بھی غائب ہیں، علیمہ خان نے عدالتی احکامات کے باوجود جان بوجھ کر ضمانت کا غلط استعمال کیا، علیمہ خان اور ان کے وکلاء نے جان بوجھ کر قانون کا مذاق بنایا۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے مزید کہا کہ وکلاء صفائی نے 15اکتوبر کو عدالتی دائرہ اختیار کو چیلنج کیا تھا، عدالت کے موقع دینے کے باوجود وکلاء صفائی نےاپنی درخواست پر دلائل نہیں دیے، وکلاء صفائی میڈیا پر عدالتی دائرہ اختیار کو ہائی لائٹ کرتے رہے لیکن عدالت نہیں آئے، علیمہ خان وارنٹ گرفتاری پر دستخط کرنے کے باوجود پیش نہ ہوئی، اگر علیمہ خان عدالتی کارروائی اور تفتیش سے مطمئن نہیں تو متعلقہ فورم پر چیلنج کریں، علیمہ خان نے آج تک کسی بھی عدالت میں ٹرائل اور تفتیش کو چیلنج نہیں کیا۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے دورانِ سماعت کہا کہ ایک سال سے مقدمہ زیرِ سماعت ہے، رکاوٹ صرف علیمہ خان کا غیر زمہ دارانہ رویہ ہے، علیمہ خان اور وکلاء صفائی میڈیا کی بجائے عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کریں، علیمہ خان کہتی ہہیں بانی کا پیغام میڈیا کو دیا اور میڈیا نے چلایا لہٰذا اسے بھی شامل مقدمہ کیا جائے، کیامیڈیا نے علیمہ خان کو دعوت دی تھی کہ وہ کیمروں پر آکر کربات کرے۔
وکیلِ صفائی محمد فیصل ملک نے عدالت میں اپنے مؤقف میں کہا کہ ملزمہ علیمہ خان کے خلاف ہر شہر میں مقدمات درج ہیں، ملزمہ لاہور، راولپنڈی اور کبھی اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش ہوتی ہے، اتنے مقدمات ہیں کہ ہر عدالت پیش ہونا ممکن نہیں، عدالت سے استدعا کی تھی کہ ہمیں مناسب تاریخ اور مناسب وقت دیا جائے۔
سماعت کے دوران علیمہ خان کی وکیل تابش فاروق نے فیض احمد فیض کا شعر پڑھا۔
اس پر عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ لگتا ہے پی ٹی آئی وکلاء نے فیض احمد فیض کی ساری شاعری پڑھی ہے۔
دورانِ سماعت وکلاء صفائی نے عدالتی دائرہ اختیار اور ملزمہ کے اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے کی درخواستیں دائر کی ہیں جس پر عدالت نے وکلاء صفائی کی دونوں درخواستوں پر فریقین سے آئندہ سماعت پر دلائل طلب کر لیے۔
عدالت نے علیمہ خان کی پراپرٹی سے متعلق بھی تفصیلات طلب کر لیں۔
عدالت نے علیمہ خان کی یقین دہانی کے بعد سماعت 26 نومبر تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ مسلسل غیرحاضری پر عدالت نے علیمہ خان کے 37 بینک اکاؤنٹ منجمد اور ضمانتی مچلکے خارج کر دیے تھے۔
علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ صادق آباد میں مقدمہ درج ہے۔ان پر کارکنان کو پُرتشدد احتجاج پر اکسانے، جلاؤ گھیراؤ اور کارِ سرکار میں مداخلت کا الزام ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علیمہ خان کے علیمہ خان نے نے علیمہ خان وکلاء صفائی میں کہا کہ کے باوجود عدالت میں پر عدالت صفائی نے عدالت نے نے عدالت عدالت کے میں پیش شاہ نے
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :